.

تہران کی جیلوں میں امریکی شہریوں سمیت 70 جاسوس قید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے دارالحکومت تہران کی جیلوں میں اس وقت ستر جاسوس قید ہیں اور وہ جاسوسی کے الزامات میں مختلف مدت کی سزائیں بھگت رہے ہیں۔ان میں دُہری شہریت کے حامل امریکی شہری بھی شامل ہیں۔

اس بات کا انکشاف تہران کے چیف پراسیکیوٹر عباس جعفری دولت آبادی نے ایک بیان میں کیا ہے۔ایک آن لائن نیوز ویب سائٹ میزان نے منگل کی شب ان کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ ان ستر مجرموں کو دشمن کو جوہری راز ،فوج ،سیاست ،سماج اور ثقافت سمیت مختلف شعبوں سے متعلق خفیہ معلومات فراہم کرنے کے الزامات میں قصور وار قرار دے کر سزائیں سنائی گئی تھیں۔

واضح رہے کہ قبل ازیں ایران میں جاسوسی کے الزام میں پکڑے گئے افراد یا سزایافتہ مجرموں میں سے چند ایک کے کیس ہی منظرعام پر لائے گئے تھے۔ان میں دو ایرانی نژاد امریکی شہری بھی شامل ہیں۔

اکتوبر میں ایران کی ایک عدالت نے کاروباری کنسلٹینٹ دُہری شہریت کے حامل سیماک نمازی اور ان کے ضعیف العمر والد باقر نمازی کو امریکی حکومت کے لیے جاسوسی کے الزام میں قصور وار قرار دے کر دس، دس سال قید کی سزا سنائی تھی۔امریکا نے ان دونوں کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا لیکن ایران نے یہ مطالبہ مسترد کردیا تھا اور کہا تھا کہ وہ اس معاملے میں امریکا کی کوئی مداخلت قبول نہیں کرے گا۔

عدالت نے اکتوبر ہی میں تین اور ایرانی، امریکی شہریوں فرہاد عبد صالح ،کامران غدیری اور علی رضا امیدوار اور لبنان سے تعلق رکھنے والے ایک امریکی رہائشی نزار ذکا کو ان ہی الزامات میں قصور وار قرار دے کر کے دس، دس سال قید کی سزا سنائی تھی۔

سیماک نمازی کے ایران میں وسیع روابط رہے ہیں۔انھوں نے ایرانی اصلاح پسندوں کی حمایت کی تھی اور ایران اور امریکا کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے فروغ کے لیے بھی کوششیں کی تھیں۔انھیں ایک سال قبل امریکا سے ایران واپسی پر گرفتار کیا گیا تھا۔

ان کے ضعیف العمر والد باقر نمازی کو فروری 2016ء میں ایران آمد پر گرفتار کر لیا گیا تھا۔وہ اپنے بیٹے کی رہائی کے لیے آئے تھے مگر خود دھر لیے گئے تھے۔وہ ماضی میں ایران میں یونسیف کے سابق نمائندے رہ چکے ہیں۔باقر امریکا کے حمایت یافتہ ایران کے سابق شاہ کے دور حکومت میں تیل کی دولت سے مالا مال صوبے خوزستان کےگورنر رہے تھے۔وہ علیل بتائے جاتے ہیں اور امریکا نے ان کی صحت کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا ہے۔