.

نیتن یاھو فلسطینی نوجوان کے قاتل فوجی کے دفاع میں ڈٹ گئے

قاتل فوجی کی سزا معاف کرنے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی وزیراعظم نے گذشتہ روز عدالت سے فلسطینی نوجوان کے قتل میں مجرم قرار دینے جانے والے صہیونی فوجی کے دفاع کا فیصلہ کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ فلسطینی لڑکے کے قاتل فوجی کو معاف کرنے کے پرزور حامی ہیں۔

خیال رہے کہ بدھ کو اسرائیل کی ایک فوجی عدالت نے ایک زخمی فلسطینی کو سر میں گولی مار کر موت کی نیند سلانے والے فوجی کو قتل کے الزام میں قصور وار قرار دے دیا تھا۔

اس قاتل فوجی الیئور آزاریا کے خلاف مئی سے تل ابیب میں ایک فوجی عدالت میں مقدمہ چلایا جارہا تھا اور دائیں بازو کے سیاست دان اس کے دفاع میں پیش پیش رہے ہیں جبکہ اسرائیلی فوج کی قیادت نے اس کے فعل کی مذمت کی تھی۔

تین رکنی عدالت کی ایک جج کرنل میا ہیلر نے بدھ کے روز اڑھائی گھنٹے میں اس کے خلاف فیصلہ پڑھ کر سنایا ہے تاہم عدالت نے ابھی اس کو سزا نہیں سنائی ہے ۔ مجرم کو بیس سال تک قید کی سزا سنائے جانے کا امکان ہے۔

خاتون جج ہیلر نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ زخمی فلسطینی پر آزاریا کے گولی چلانے کا کوئی جواز نہیں تھا کیونکہ اس سے کوئی خطرہ لاحق نہیں تھا۔

جب جج فیصلہ پڑھ رہی تھیں تو عدالت میں موجود اس فوجی کے چہرے کا رنگ بھی متغیر ہورہا تھا۔ وہ سبز رنگ کی فوجی وردی ملبوس میں تھا اور مسکراتا ہوا اپنے خاندان کے ارکان کے ساتھ عدالت میں آیا تھا لیکن فیصلہ سننے کے بعد اس کے چہرے کا رنگ اتر گیا تھا۔

واضح رہے اس اسرائیلی فوجی نے مارچ 2016ء میں مغربی کنارے کے شہر الخلیل میں ایک فلسطینی نوجوان عبدالفتاح الشریف کو پہلے گولی مار کر زخمی کردیا تھا اور پھر اس کے سر میں گولی مار کر شہید کردیا تھا۔ اس کے بارے میں تب اسرائیلی فوج نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ وہ حملہ آور تھا لیکن زخمی ہونے کے بعد اس سے کوئی خطرہ لاحق نہیں رہا تھا۔

سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ’فیس بک‘ پر پوسٹ کردہ ایک بیان میں نیتن یاھو کا کہنا ہے کہ ’آج کا دن ہم سب کے لیے بہت بھاری اور الم ناک ہے، بالخصوص فوجی ایلور اور اس کے اہل خانہ کے لیے دکھ کا باعث ہے۔ میں ایلور کی سزا کو فوری طور پر معاف کرنے کا پرزور حامی ہوں۔

واضح رہے کہ اسرائیلی عدالتوں کی طرف سے ملزمان کو سنائی سزاؤں میں نرمی یا معافی کا حتمی اختیار صدر کے پاس ہے۔ اسرائیلی صدر روف ریفلین کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ زخمی فلسطینی نوجوان کے قاتل کی سزا معاف کرنے کے بارے میں فی الحال کوئی فیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ملزم کے خلاف جاری عدالتی کارراوئی مکمل ہونے کے بعد اس کی سزا معاف کرنے کے بارے میں غور کیا جاسکتا ہے۔ سزا کی معافی کے لیے ملزم خود، اس کا وکیل یا خاندان کا کوئی دوسرا فرد درخواست دے سکتا ہے۔