حمزہ بن لادن بھی امریکا کی بلیک لسٹ میں شامل

'اسامہ کا بیٹا بھی عالمی سلامتی کے لیے خطرہ ہے'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکا نے القاعدہ کے بانی مقتول اسامہ بن لادن کے بیٹے حمزہ بن لادن کو بھی امریکا اور عالمی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے بلیک لسٹ میں شامل کردیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ کی طرف جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سنہ 2011ء میں پاکستان میں ایک مبینہ آپریشن کے دوران ہلاک ہونے والے اسامہ بن لادن کے صاحبزادے حمزہ بن لادن امریکا اور عالمی امن وسلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔ اسی خطرے کے پیش نظر انہیں بلیک لسٹ کیا جا رہا ہے تاکہ انہیں بھی مالی اور قانونی پابندیوں کا سامنا کیا جاسکے۔

خبر رساں اداروں کے مطابق امریکی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ حمزہ بن لادن امریکی شہریوں اور امریکا کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔

اسامہ بن لادن کے جانشین ایمن الزواہری نے 2014ء میں حمزہ بن لادن کو القاعدہ کا رکن قرار دیا تھا۔ گذشتہ برس اگست میں القاعدہ کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ حمزہ بن لادن اس کا اہم رکن ہے۔

وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ حمزہ بن لادن نے 2015ء میں ایک آڈیو پیغام میں مغربی دارالحکومتوں پر دہشت گرد حملوں کی بات کی تھی۔ گذشتہ سال بھی انھوں نے دھمکی دی تھی کہ امریکیوں کو ان کے گھر اور دوسرے ممالک میں نشانہ بنایا جائے گا۔

القاعدہ کے بانی اسامہ بن لادن 2011ء میں پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں امریکی خصوصی فورسز کے ایک حملے میں مارے گئے تھے۔

امریکی وزارتِ خارجہ کے کسی شخص کو دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرنے کا مطلب ہوتا ہے کہ کوئی بھی امریکی شہری ان سے کاروبار نہیں کر سکتا اور امریکہ جہاں تک ممکن ہو، ان کے اثاثے منجمد کر سکتا ہے۔

امریکی خفیہ اداروں کے مطابق بن لادن کے قبضے سے ملنے والی دستاویزات سے پتا چلتا ہے کہ حمزہ بن لادن پاکستان میں اپنے والد کے خفیہ قیام کے عرصے میں ان کی طرف سے مکتوبات لکھا کرتے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں