کم عمر ترین فلسطینی قیدی جیل میں وقت کیسے گزارتا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

مقبوضہ بیت المقدس سے تعلق رکھنے والے 13 سالہ فلسطینی شادی فراح کے بستر پر اب اس کا چھوٹا بھائی ریان سوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انتظامی طور پر ایک برس تک اسرائیلی حکام کی حراست میں رہنے والے شادی کو مقبوضہ بیت المقدس کی مجسٹریٹ عدالت نے دو سال قید کی سزا سنا دی ہے۔

کم عمر ترین فلسطینی اسیر پر اپنے قبضے میں چاقو رکھنے اور اپنے دوست احمد زعیتر کے ساتھ چھرا گھونپنے کی کارروائی کی منصوبہ بندی کرنے کا الزام تھا۔ گرفتاری کے وقت دونوں کی عمر 12 سال سے زیادہ نہ تھی۔

شادی فراح کی والدہ نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو بتایا کہ جیل میں شادی کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ کمرہِ تحقیقات میں شادی کے کپڑے اتار کر اسے ایئرکنڈیشنر کے نیچے بٹھا دیا جاتا اور پھر کپڑوں کو پانی میں ڈبو کر اس پر ڈال دیا جاتا۔ اس کے علاوہ سر کے بال بھی مونڈ دیے جاتے۔

قید میں رہنے کے کچھ عرصہ بعد ہی شادی کا جسم بہت کمزور اور لاغر ہو گیا۔ اس نے اسرائیلی حکام کو کئی مرتبہ یقین دہانی بھی کرائی کہ وہ چاقو سے حملے کی کارروائی کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا تھا تاہم اس کے باوجود تحقیقات کا سلسلہ نہیں روکا گیا۔ اس دوران شادی دونوں آنکھوں اور دونوں کانوں کے انفیکشن میں مبتلا ہو گیا۔ ماں کے ملاقات کے لیے آنے پر شادی نے اپنا سر دیوار میں مارنا شروع کر دیا جس پر اس کی ماں کو اندازہ ہو گیا کہ اگر وہ خاموش رہی تو اپنے بیٹے کو کھو دے گی۔

شادی کی ماں نے نفسیاتی معالج کے مشورے سے اس کا علاج شروع کیا اور اپنے بیٹے کے لیے قرآن کریم، مختلف قسم کے رنگ، کہانیاں، اور ڈرائنگ کاپیاں لا کر دیں۔ اس کے بعد شادی نے اپنی سال گرہ کے روز ماں کو ایک خط بھی لکھا جو "العربیہ ڈاٹ نیٹ" نے خبر کے ساتھ منسلک کیا۔

خط میں شادی نے لکھا کہ " میری ماں غم نہ کرنا ، یہ اللہ کی طرف سے امتحان ہے۔ میں روزانہ آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر اپنی برائیوں کو نکال پھینکنے اور اچھائیوں کو بہتر کرنے کے بارے میں سوچتا ہوں۔" درحقیقت شادی کامیاب ہوا اور قرآن کریم کے مقابلے میں حصہ لے کر کامیابی بھی حاصل کی۔

"العربیہ ڈاٹ نیٹ" شادی کی گرفتاری سے قبل کی تصاویر نشر کر رہا ہے جب وہ جمناسٹک ، تیراکی اور گُھڑ سواری میں پوری مہارت سے حصہ لیتا تھا۔

شادی کے معاملے نے ایک مرتبہ پھر فلسطین کے بچوں پر روشنی ڈالی ہے جو فلسطینیوں کے مسلسل مصائب کی علامتوں میں سے ایک علامت بن چکے ہیں۔ اسرائیل نے اپنی جیلوں میں 18 سال سے کم عمر کے تقریبا 350 فلسطینی بچوں کو قید کر رکھا ہے جن میں 12 بچیاں بھی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں