.

کیا استنبول دہشت گردی کا حملہ آور ترکی سے فرار ہو چکا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی میں سال نو کے جشن کی ایک تقریب میں دہشت گردی کے واقعے تحقیقات جاری ہیں مگر ترک حکام یہ خدشہ بھی ظاہر کر رہے ہیں کہ استنبول نائٹ کلب پرحملے میں ملوث مشتبہ دہشت گرد ملک سے فرار ہو چکا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ترک حکام کا کہنا ہے کہ چونکہ نائٹ کلب پر حملے کی ذمہ داری داعش نے قبول کی ہے، اس لیے ممکن ہے کہ اس کارروائی میں وسطی ایشیاء بالخصوص چین کی یغور اقلیت سے تعلق رکھنے والے عناصر ملوث ہو سکتے ہیں۔ ترکی کے نائب وزیر اعظم ویسی قایناق نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس بات کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا کہ استنبول نائٹ کلب پر حملہ چین کی یغور نسل سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں نے کیا ہے اور وہ حملے کے بعد ملک سے فرار ہو چکے ہیں۔

خیال رہے کہ سال نو کی آمد پر ترکی کے شہر استنبول میں ایک نائٹ کلب میں اندھا دھند فائرنگ کے نتیجے میں 39 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ حملے کے بعد دہشت گرد جائے وقوعہ سے فرار میں کامیاب ہو گیا تھا۔ ترک حکام کا کہنا تھا کہ وہ مشتبہ حملہ آور کے ممکنہ ٹھکانے اور اس کے رابطوں کی چھان بین کر رہے ہیں۔

ایک ٹی وی انٹرویو میں ترک نائب وزیر اعظم نے کہا کہ استنبول نائٹ کلب کے حملہ آور کا بیرون ملک فرار خارج از امکان نہیں تاہم یہ بھی ممکن ہے کہ حملہ آور ترکی کے اندر ہو اور کسی اور کارروائی کی تیاری کررہا ہو۔ انہوں نے کہا کہ استنبول نائٹ کلب کا حملہ آور تنہا نہیں۔ اس کارروائی میں اسے دوسروں کی مدد بھی ضرور حاصل رہی ہو گی۔