’سافٹ بینک ویژن‘ میں سرمایہ کاری کا ہدف 100 ارب ڈالر سے زاید

ہدف مدت مقررہ سے پہلے پورا ہونے کی توقع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب میں معاشی خود کفالت کے لیے عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کےاشتراک سے سرمایہ کاری کے پروگرام ’سعودی عرب سافٹ بینک ویژن‘ پروگرام میں مزید کئی کمپنیاں شمولیت کے لیے تیار ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اوریکل لیری لاری الیسن، اپیل کمپنی، کوالکوم، فوکسکون برائے مالیاتی کوریج فنڈ اور سافٹ بنک ٹیکنالوجی کریشر انڈیکسز کی جانب سے شمولیت کے بعد سعودی عرب سافٹ ویژن فنڈ میں سرماریہ کا حجم اپنی مقرر مدد سے کئی ہفتے قبل ہی 100 ارب ڈالر سے تجاوز کرسکتا ہے۔

یہ فنڈ جاپان کے سوفٹ بینک گروپ کارپوریشن اور سعودی سرکاری سرمایہ کاری فنڈ نے مشترکہ طور پر قائم کیا ہے۔اس کی کل مالیت ایک سو ارب ڈالرز ہوگی۔ مگر توقع ہےکہ سافٹ ویژن فنڈ اپنے مقررہ ہدف تک وقت سے پہلے ہی پہنچ سکتا ہے کیونکہ عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی بڑی تعداد اس فنڈ میں سرمایہ کاری میں گہری دلچسپی لے رہی ہے۔

سوفٹ بنک کا کہنا ہے کہ وہ اس فنڈ کے لیے کم سے کم 25 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کرے گا۔ وہ سعودی عرب کے سرکاری سرمایہ کاری فنڈ سے مزید رقوم دینے کے لیے بھی بات چیت کررہا ہے اور اس کی مالیت بڑھا کر 45 ارب ڈالرز کی جا سکتی ہے۔

ڈوئچے بنک ڈیبٹ سیکیورٹیز کے انچارج اور یو بی ایس بنک کے سابق سرماریہ کار راجیف میسرا کی سعودی وژن فنڈ میں شمولیت اہم ترین اضافہ ہے جس کے نتیجے میں سرمایہ کاری میں مزید اضافے کی ایک نئی راہ ہموار ہوئی ہے۔

اخبار ’فنانشل ٹائمز‘ کے مطابق سعودی سافٹ بینک ویژن فنڈ کا مرکزی نکتہ جس پر تمام توجہ مرکوز کی گئی ہے وہ جدید ٹیکنالوجی کمپنیوں، مصنوعی ذہانت کے استعمال ہونے والے آلات، روبوٹ ٹیکنالوجی اور انٹرنیٹ سے متعلقہ اشیاء تیار کرنے والی فرموں کو شامل کرنا ہے۔ اس ضمن میں اہم پیش رفت اس وقت آئی جب ٹیکنالوجی امریکی کمپنی ’ایپل‘ نے بھی سعودی سافٹ ویژن بنک میں ایک ارب ڈاالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا۔

سنہ 2014ء کے آخر میں آلات سماعت تیار کرنے والی کمپنی’بیسٹ‘ نے تین ارب ڈالر اور گزشتہ برس چین کی مواصلاتی کمپنی نے ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی۔ پچھلے ماہ ’سافٹ بینک‘ نے One Web میں ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کار کا اعلان کیا تھا۔ سافٹ بینک فنڈ میں خود سعودی عرب کی سرمایہ کار حجم 45 ارب ڈالر سے تجاوز کرچکا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں