.

الریاض: سعودی فورسز کی کارروائی میں دو مطلوب انتہا پسند ہلاک

گذشتہ سال مسجد نبوی کے باہر خودکش بم حملے میں ملوث دہشت گرد انجام کو پہنچا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی سکیورٹی فورسز نے دارالحکومت الریاض کے شمال میں واقع علاقے یاسمین میں ایک کارروائی کے دوران دو مطلوب انتہا پسندوں کو ہلاک کردیا ہے۔

سعودی حکام نے ان دونوں کی شناخت طایع سالم یسلم الصیعری اور طلال سمران الصاعدی کے نام سے کی ہے۔اول الذکر دہشت گرد سعودی فورسز کو گذشتہ سال جولائی میں مدینہ منورہ میں مسجد نبوی کے احاطے میں خودکش بم دھماکے کے سلسلے میں مطلوب تھا۔

طایع الصیعری مبینہ طور پر سعودی عرب میں بم حملوں کے لیے خودکش جیکٹس تیار کیا کرتا تھا اور اسی نے جولائی 2016 میں مسجد نبوی اور جنوبی شہر ابھا میں اگست میں سعودی خصوصی فورسز کے زیر استعمال ایک مسجد میں خودکش بم حملوں کے لیے بارود سے بھری جیکٹس تیار کی تھیں۔

سعودی وزارت داخلہ کے ترجمان میجر جنرل منصور الترکی نے ہفتے کی شب ایک پریس کانفرنس میں بتایا ہے کہ ‘‘ ان دونوں انتہا پسندوں نے گرفتاری سے بچنے کے لیے فرار ہونے کی کوشش کی تھی اور سکیورٹی فورسز کے ساتھ ان کا فائرنگ کا تبادلہ ہوا تھا جس سے ایک افسر زخمی ہوگیا تھا۔ان دونوں نے خودکش جیکٹیں پہن رکھی تھیں’’۔

سعودی سکیورٹی فورسز کو یاسمین میں ایک مکان میں ان مطلوب انتہا پسندوں کے چھپے ہونے کی اطلاع ملی تھی۔اس کے بعد ہفتے کی صبح ہی سے سکیورٹی فورسز نے اس جگہ کا محاصرہ کر لیا تھا۔جب انھوں نے جنگجوؤں سے ہتھیار ڈالنے کے لیے کہا تو انھوں نے فائرنگ شروع کردی۔ سکیورٹی اہلکاروں نے اس کے جواب میں ان دونوں انتہا پسندوں کو فائرنگ کرکے ہلاک کردیا ہے۔

اس کارروائی کے بعد اس مکان سے دھماکا خیز مواد ، خودکش حملے میں استعمال ہونے والی بارود سے بھری جیکٹس ،دستی بم ،بڑی تعداد میں آتشیں بندوقیں اور دوسرا اسلحہ ملا ہے۔