.

ایران کے سابق صدر اکبر ہاشمی رفسنجانی چل بسے!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سابق صدر اکبر ہاشمی رفسنجانی مختصر علالت کے بعد انتقال کر گئے ہیں۔ان کی عمر بیاسی سال تھی۔

ایران کی دو خبررساں ایجنسیوں ایسنا اور فارس کے مطابق اکبر ہاشمی کو دل کا دورہ پڑا تھا،انھیں اسپتال لے جایا گیا جہاں وہ اتوار کے روز چل بسے ہیں۔ مرحوم دو مرتبہ ایران کے صدر منتخب ہوئے تھے اور انھوں نے 1979ء میں امام خمینی کی قیادت میں ملک میں برپا شدہ انقلاب میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

ہاشمی رفسنجانی سنہ 1989ء سے 1997ء تک دومرتبہ ایران کے صدر رہے تھے۔حالیہ برسوں کے دوران سخت گیروں کی جانب سے سیاسی محاذ پر انھیں سخت مخالفت کا سامنا رہا تھا۔انھیں ایک اعتدال پسند لیڈر خیال کیا جاتا تھا اور وہ اصلاح پسند کیمپ کے قریب سمجھے جاتے ہیں۔انھیں سنہ 2013ء میں صدارتی انتخابات میں حصہ لینے سے روک دیا گیا تھا جس کے بعد انھوں نے اعتدال پسند ڈاکٹر حسن روحانی کی حمایت کی تھی اور وہ صدارتی انتخاب جیت گئے تھے۔

وہ ایک عرصے تک ایران کی طاقتور ثالثی کونسل کے سربراہ کے عہدے پر فائز رہے تھے۔انھوں نے 2005ء میں محمود احمدی نژاد کے مقابلے میں صدارتی انتخابات میں حصہ لیا تھا مگر وہ ان سے ہار گئے تھے۔

مرحوم ہاشمی رفسنجانی ایران کے سابق صدر احمدی نژاد کے شدید مخالف سمجھے جاتے تھے۔انھوں نے جون 2009ء میں منعقدہ صدارتی انتخابات میں ان کے مقابلے میں میر حسین موسوی کی حمایت کی تھی۔ رفسنجانی 2007ء میں شورائے نگہبان کے چئیرمین منتخب ہوئے تھے مگر ایران کے سخت گیروں اور صدر احمدی نژاد کے حامیوں نے انھیں مارچ 2011ء میں اس عہدے سے ہٹا دیا تھا۔

ان کا قصور یہ تھا کہ انھوں نے احمدی نژاد کی حکومت کو ایران پر عاید اقوام متحدہ ، یورپی یونین اورامریکا کی پابندیوں سے نمٹنے میں ناکامی پر تنقید کا نشانہ بنایا تھا اورانھوں نے حکومت کے اس موقف کو مسترد کردیا تھا کہ پابندیوں سے ملکی معیشت کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ۔

رفسنجانی کی بیٹی فائزہ 2009ء کے صدارتی انتخابات کے بعد حزب اختلاف کے مظاہروں میں شرکت کرتی رہی تھیں۔انھیں حکومت مخالف مظاہروں میں حصہ لینے اور بدامنی پھیلانے کے الزام میں 2011ء میں گرفتار کرلیا گیا تھا۔

ہاشمی رفسنجانی کے بیٹے مہدی ہاشمی پر ایران میں 2009ء میں منعقدہ صدارتی انتخابات کے نتائج کے خلاف ملک گیر احتجاجی تحریک میں حصہ لینے اور بدعنوانیوں کے الزام میں مقدمہ چلایا گیا تھا۔عدالت نے انھیں دس سال جیل کی سزا سنائی تھی۔ مہدی ہاشمی اس وقت تہران کی ایوین جیل میں قید کاٹ رہے ہیں۔

اکبرہاشمی رفسنجانی  آیت اللہ علی خامنہ ای کے ساتھ ۔ فائل تصویر
اکبرہاشمی رفسنجانی آیت اللہ علی خامنہ ای کے ساتھ ۔ فائل تصویر
اکبرہاشمی رفسنجانی  جنوبی افریقا کے سابق صدر نیلسن مینڈیلا کے ساتھ مصافحہ کرتے ہوئے ۔
اکبرہاشمی رفسنجانی جنوبی افریقا کے سابق صدر نیلسن مینڈیلا کے ساتھ مصافحہ کرتے ہوئے ۔
اکبرہاشمی رفسنجانی  فلسطین کے مرحوم رہ نما یاسر عرفات کا استقبال کرتے ہوئے۔ 1997ء کی ایک یادگار تصویر۔
اکبرہاشمی رفسنجانی فلسطین کے مرحوم رہ نما یاسر عرفات کا استقبال کرتے ہوئے۔ 1997ء کی ایک یادگار تصویر۔