.

داعش میں شمولیت کی خواہاں سعودی عورت کے خلاف مقدمے کی سماعت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں داعش میں شمولیت کی خواہاں ایک مطلقہ عورت کے خلاف مقدمے کی سماعت شروع ہوگئی ہے۔

ملزمہ نے سوموار کے روز دارالحکومت الریاض کی ایک عدالت میں مقدمے کی ابتدائی سماعت کے موقع پر کہا ہے کہ اس نے ایک شامی کو 2015ء میں شام پہنچانے کے لیے 33 ہزار ( 8 ہزار ڈالرز) ریال دیے تھے تاکہ وہ اس کو اور اس کے بچوں کو شام لے جانے اور وہاں داعش میں شمولیت میں مدد دے سکے۔

عدالت میں اس 33 سالہ مطلقہ عورت کے ساتھ اس کا بھائی بھی موجود تھا۔ان کے علاوہ دو مشتبہ شامی بھی عدالت میں حاضر تھے۔

سعودی پبلک پراسیکیوٹر نے مدعا علیہا پر داعش کی ہمدرد ہونے اور سوشل میڈیا کے ذریعے ایسی معلومات کے تبادلے کا الزام عاید کیا ہے،جن سے مملکت میں امن عامہ کو نقصان پہنچ سکتا تھا۔ اس کے علاوہ اس نے دہشت گرد گروپ کی خبروں کی تشہیر کی تھی۔اس نے داعش کے ایک جنگجو کے ساتھ برقی مراسلت کی تھی اور اسی جنگجو نے اس عورت کو سعودی عرب سے راہ فرار اختیار کرکے شام پہنچنے اور داعش میں شمولیت پر اکسایا تھا۔

اس پر دہشت گردی کی مالی معاونت پر بھی فرد الزام عاید کی گئی ہے۔اس پر ایک مدعا علیہ کو 33 ہزار ریال دینے کا الزام ہے تاکہ وہ اس رقم کے عوض اس کو اور اس کے بچوں کو یمن اور ترکی کے راستے شام لے جا سکے۔

یادرہے کہ سعودی حکام نے اس عورت کے بھائی کی اطلاع پر اس کا مملکت سے یمن کے راستے شام فرار ہونے کا منصوبہ ناکام بنا دیا تھا اور اس کو یمن کے ساتھ واقع سعودی عرب کے سرحدی علاقے سے بچوں سمیت حراست میں لے لیا تھا۔