.

مصر:یتیم خانے میں چار سالہ بچے پرتشدد، قصہ کیا ہے؟

یتیم بچے کو ٹھندے پانی سے نہلانے پر خاتون ملازمت سے فارغ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصرمیں حکام نے ایک یتیم خانے میں چار سالہ بچے پر تشدد کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے بچے پر تشدد کی مرتکب خاتون ملازمہ کو برطرف کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے خلاف قانونی کارروائی شروع کردی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایک چار سالہ یتیم بچے احمد پر تشدد کا واقعہ گذشتہ روز اس وقت سامنے آیا جب قاہرہ کے نواحی علاقے سوسائٹی نمبر 5 میں ’دارا الاورمان‘ کے قریب ایک دوسری خاتون نے یتیم خانے میں بچے کی چیخ پکار سنی۔

تفصیلات کے مطابق یتیم بچوں کی کفالت کے مرکز کے قریب امیرہ عبدالطیف نامی ایک خاتون نے مقامی وقت کے مطابق صبح سات بجے چیخ پکار کی آواز سنی۔ توجہ کرنے پر پتا چلا کہ بچوں کی ایک خاتون نگران [سپر وائزر] ایک بچے کو ٹھنڈے پانی سے نہلانے کی کوشش کررہی ہے اور بچہ ٹھنڈے پانی سے نہانے سے خوف زدہ ہے اور مسلسل چیخ پکار کررہا ہے۔

یتیم خانے کے باہر کھڑی خاتون نے بچے کو ٹھنڈے پانی سے نہلانے کی کوشش کے دوران فوٹیج بنا کر انٹرنیٹ پر پوسٹ کی جس پر عوامی حلقوں کی جانب سے شدید رد عمل سامنے آیا۔

معاملہ سامنے آنے پر خاتون وزیرہ برائے سماجی بہبود غادہ والی نے واقع کا نوٹس لیے ہوئے اس کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی بھی قائم کی ہے جس نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ بچے کی نگران بیس سالہ نھیٰ محمد عبد اللہ نامی لڑکی ہے جو حال ہی میں یتیم خانے میں بچوں کی دیکھ بحال پر مامور کی گئی تھی۔ اسے چھوٹے بچوں کی دیکھ بحال اور کفالت کا کوئی خاص تجربہ نہیں ہے۔

یتیم خانے کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل ممدوح شعبان نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ بچے پر تشدد کی مرتکب لڑکی کو ملازمت سے ہٹا دیا گیا ہے۔نیز اس کے خلاف پراسیکیوٹر جنرل کے ہاں کیس تیار کیا جا رہا ہے۔

ادھر دوسری جانب بچے کو زبردستی ٹھندے پانی سے نہلانے کی کوشش کرنے والی خاتون ملازمہ کا کہنا ہے کہ بچہ رات کو سوتے میں بستر پر پیشاب کر دیتا ہے۔ وہ ہر رات کو دو بار اس کے کپڑے بدلتی ہے۔ گذشتہ روز اس نے دیکھا کہ بچے نے تیسری بار اپنے اوپر پیشاب کردیا تھا۔ اس نے بچے کے کپڑے بدلنے کی کوشش کی اور اسے ڈرانے کے لیے ٹھنڈے پانی سے نہلانے کا کہا جس پر بچہ بگڑ گیا۔