.

استنبول حملہ آور نے تُرک پولیس کو اس طرح دھوکا دیا !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے ذرائع ابلاغ میں ایک نئی وڈیو نشر کی جا رہی ہے جس میں استنبول میں نائٹ کلب پر خون ریز حملہ کرنے والا شخص جرم کے ارتکاب کے چند منٹوں کے بعد ہی پولیس کو چکمہ دیتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ 31 دسمبر کی رات پیش آںے والے فائرنگ کے اس واقعے میں 39 افراد ہلاک اور 65 زخمی ہو گئے تھے۔

گزشتہ دنوں کے دوران حملہ آور کی شناخت کے حوالے سے مختلف خبریں سامنے آتی رہی ہیں۔ یاد رہے کہ داعش تنظیم باقاعدہ طور پر استنبول حملے کی ذمے داری قبول کر چکی ہے۔

خود کو زخمی ظاہر کر کے پولیس کو دھوکا دیا

سامنے آنی والی نئی وڈیو کے حوالے سے تُرک چینلKanal D کے نمائندے نے بتایا ہے کہ حملے کے فورا بعد ہی گشتی پولیس نے حملہ آور کو روکا تھا تاہم وہ انہیں چکمہ دینے میں کامیاب ہو گیا۔ چینل پر نشر ہونے والی وڈیو سے ظاہر ہوتا ہے کہ حملہ آور نے پولیس کو باور کرایا کہ وہ حملے سے متاثرہ زخمیوں میں سے ہے۔

چینل کے نمائندے نے حملے کا نشانہ بننے والے ریستوران کے اندر عکس بندی کر کے ایک رپورٹ بھی تیار کر لی جب کہ تحقیقات جاری ہونے کی وجہ سے ترک پولیس نے اس میں داخلے کو ممنوع قرار دیا تھا۔

چینل پر نشر ہونے والی تصاویر میں حملے کے نتیجے میں ریستوران کے اندر ہونے والے نقصان کا حجم ظاہر ہوتا ہے۔ چینل کے نمائندے نے اس امر کی تصدیق کی کہ مسلح شخص حملے کے بعد انتہائی پیشہ ورانہ انداز سے فرار ہونے میں کامیاب ہوا گویا کہ وہ اس مقام اور اس کے اطراف کے علاقے کو اچھی طرح جانتا تھا۔

نئی وڈیو میں جو کہ ایک سکیورٹی کیمرے سے بنی ہے ، اس میں نظر آ رہا ہے کہ حملہ آور نے گشتی پولیس کو بتایا کہ اس کا ہاتھ بری طرح زخمی ہوا ہے اور اس کو فوری طور پر جانے دیا جائے۔ ترک میڈیا کے مطابق حملہ آور نے اپنے ہاتھ میں ایک دستی بم کا دھماکا کیا تاکہ خود کو زخمی ظاہر کر کے پولیس کو دھوکا دیا جا سکے۔