.

رفسنجانی.. ایرانی نظام کا "بلیک بکس"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی نظام اتوار کے روز اپنے ایک ناخُدا اور اسرار و رموز کے نگہبان سے محروم ہو گیا جب 82 سالہ علی اکبر ہاشمی رفسنجانی دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ایرانی مرشد علی خامنہ ای کی وفات کے بعد رفسنجانی ایرانی نظام کے مستقبل کے حوالے سے اہم کردار ادا کر سکتے تھے۔ وہ ایران میں قدامت پسندوں سے لے کر اصلاح پسندوں تک نظام کے اندر تمام سیاسی گروپوں کے ساتھ اتحاد کی غیرمعمولی صلاحیت کے حامل تھے۔

ایرانی امور سے متعلق Arabian gulf center for Iranian studies کے مطالعے کے مطابق کسی نے اس طرف توجہ نہیں دی تھی کہ خامنہ ای کے رہتے ہوئے رفسنجانی کے رخصت ہو جانے کی صورت میں ایرانی نظام کے مستقبل کا منظرنامہ کیا ہوگا۔

ایرانی مرشد اعلی علی خامنہ کے قریب سمجھے جانے والے اور ایرانی جمہوریہ کے بانی خمینی کے شاگرد علی اکبر رفسنجانی کو انقلاب کی کامیابی کے بعد ملک میں سب سے زیادہ با اثر سیاسی شخصیات میں شمار کیا جاتا تھا۔ شاہ ایران کی حکومت کے خلاف سرگرمیوں کے سبب انہیں انقلاب سے قبل 7 مرتبہ گرفتار بھی کیا گیا۔

1934 میں پیدا ہونے والے رفسنجانی وہ شخصیت ہیں جنہوں نے 1979 میں انقلاب کے بعد ایرانی نظام میں تمام قائدانہ منصبوں کو سنبھالا۔ ان میں ملک کے صدر ، پارلیمنٹ کے اسپیکر اور مجلسِ تشخیصِ مصلحتِ نظام کے سربراہ کے عہدے شامل ہیں۔

مبصرین کے مطابق "Iran–Contra" اسکینڈل رفسنجانی کی زندگی کا اہم ترین واقعہ ہے۔ اس ڈیل کے تحت ایران عراق جنگ کے دوران اسرائیل کی جانب سے تہران کو امریکی اسلحہ فراہم کیا گیا۔

خمینی نے انقلاب کی کامیابی کے آغاز پر رفسنجانی کو انقلابی کونسل کے رکن کے طور پر چُنا اور 1981 میں اس کونسل کے تحلیل کیے جانے کے وقت رفسنجانی اس کی با اثر ترین شخصیات میں سے تھے۔

انقلاب کے بعد رفسنجانی نے جو پہلا منصب سنبھالا وہ 1980 میں ایرانی پارلیمنٹ کی تاسیس کے بعد اس کے اسپیکر کا تھا۔ وہ 1989 میں خمینی کی وفات کے بعد ملک کے صدر چُنے جانے کے تک اس منصب پر فائز رہے۔

رفسنجانی 1982 سے دفاع کی سپریم کونسل میں خمینی کے نمائندے رہے اور 1990 میں قومی سلامتی کی سپریم کونسل تشکیل دیے جانے تک اپنی ذمے داریاں نبھاتے رہے۔ رفسنجانی کا نمایاں کردار 1989 میں خمینی کی وفات کے بعد سامنے آیا جب انہوں نے خامنہ ای کے بطور جانشیں انتخاب کے سلسلے میں مجلس خبرگان رہبری میں موثر کردار ادا کیا۔

رفسنجانی نے خامنہ ای کے مرشد اعلی کے منصب پر فائز ہونے کے بعد تمام تر اختلافات کے باوجود اپنے لیے مجلس تشخیص مصلحت نظام کی سربراہی کو وفات تک برقرار رکھا۔ یہ مجلس 1987 میں خمینی کے فیصلے سے تشکیل دی گئی تھی۔

رفسنجانی نے 1989 میں ملک کی صدارت کی باگ ڈور سنبھالنے کے بعد اعلان کیا کہ ان کی حکومت کی اولین ترجیح ایران عراق جنگ کے بعد ایرانی معیشت کی بحالی ہے۔ وہ دو مرتبہ ایران کے صدر منتخب ہوئے۔ اپنی مدت صدارت میں سیاسی امور سے زیادہ معاشی ترقی پر زور دیا۔ اس کے نتیجے میں انہیں بعض حلقوں کی جانب سے تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا۔ رفسنجانی کے دور میں سماجی آزادی پر حکومتی دباؤ میں کمی دیکھنے میں آئی۔

رفسنجانی کے دور میں انٹیلی جنس کی وزارت نے امن و امان کے لیے خطرہ شمار کی جانے والی متعدد شخصیات کو موت کی نیند سلا دیا۔ ان شخصیات میں اندرون اور بیرون ملک اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے اہم افراد اور ناقدین شامل تھے۔

رفسنجانی نے دو مرتبہ ملک کا صدر بننے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ 2005 کے صدارتی انتخابات میں تیسری مرتبہ خود کو نامزد کر ڈالا۔ وہ نتائج کے لحاظ سے محمود احمدی نژاد کے بعد دوسرے نمبر پر رہے۔

احمدی نژاد کی جیت کے بعد رفسنجانی نے ووٹنگ کے عمل میں منظم طور مداخلت کو تنقید کا نشانہ بنایا جب کہ دیگر امیدواروں مثلا مہدی کروبی اور مصطفی معین نے عسکری اداروں پر انتخابات میں مداخلت کا الزام عائد کیا۔

رفسنجانی 2006 میں مجلس خبرگان رہبری کا رکن منتخب ہوئے اور مجلس کے سربراہ آيت اللہ مشکینی کی وفات کے بعد مجلس کی سربراہی تک پہنچ گئے۔ وہ 2011 کے آغاز تک اس منصب پر فائز رہے۔

ایران میں شوری نگہبان کی جانب سے 2013 کے صدارتی انتخابات میں رفسنجانی کی اہلیت مسترد کیے جانے کے بعد رفسنجانی نے حسن روحانی کی حمایت شروع کر دی۔ اس حمایت نے بالآخر روحانی کو ایران کے صدر کے منصب تک پہنچا دیا۔ بعد ازاں رفسنجانی کی بہت سی قریبی شخصیات کو حکومت میں عہدوں سے نوازا گیا۔ اس طرح ایرانی سیاست میں رفسنجانی کا رسوخ ایک مرتبہ پھر سے زور پکڑ گیا۔ وہ 2016 میں مجلس خبرگان رہبری کے انتخابات میں تہران سے اول پوزیشن حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔

دوسری جانب رفسنجانی بیرون ملک ایران کی جانب سے کی جانے والی کئی دہشت گرد کارروائیوں میں بھی ملوث رہے۔ ان میں سرِفہرست 1994 میں ارجنٹائن کے دارالحکومت بیونس آئرس میں ایک یہودی فرقے کے مرکز پر پیش آںے والا واقعہ ہے جس میں 85 افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوگئے تھے۔ 25 اکتوبر 2006 کو ارجنٹائن میں استغاثہ نے سرکاری طور پر ایرانی حکومت پر الزام عائد کیا اس لیے کہ اُس نے مذکورہ دھماکے کے احکامات جاری کیے تھے۔ استغاثہ نے خامنہ ای ، رفسنجانی اور علی اکبر ولایتی کو ملزم ٹھہرایا۔

رفسنجانی کے دور میں ایران کے یورپی یونین کے ساتھ عمومی اور جرمنی کے ساتھ خصوصی طور پر تعلقات کشیدہ رہے۔ اس کا سبب اندرون اور بیرون ملک خاص طور پر جرمنی میں ایرانی اپوزیشن شخصیات کو موت کے گھاٹ اتارنا تھا۔

ایک سیاسی تجزیہ کار کے مطابق ہاشمی رفسنجانی کی وفات کا مطلب علی خامنہ ای کے فیصلوں پر اثر انداز ہونے کا ایک اہم ذریعہ اور موجودہ صدر حسن روحانی کے ایک بہت بڑے سپورٹر کو کھو دینا ہے۔

دوسری جانب ہوسکتا ہے کہ رفسنجانی کی وفات روحانی کے لیے ایک موقع ہو کہ وہ اپنے استاد کے غلاف سے باہر نکلیں اور رفسنجانی کی وفات سے پیدا ہونے والے خلاء کو پُر کریں۔ روحانی کو سابق ایرانی صدر (رفسنجانی) کا اہم ترین شاگرد شمار کیا جا سکتا ہے۔ اب روحانی کے کاندھوں پر اس ذمے داری کا بوجھ آن پڑا ہے کہ وہ رفسنجانی کے سیاسی ورثے کو برقرار رکھیں اور ان کے سیاسی بلاک کو معدوم ہونے سے روکیں۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ ایرانی حکومت نے پورے ملک میں 3 روز کے سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اس کے علاوہ رفسنجانی کی تدفین کے روز ملک بھر میں عام تعطیل ہو گی۔ رفسنجانی کے بھائی کے مطابق سابق ایرانی صدر کی آخری رسومات دارالحکومت تہران میں ادا کی جائیں گی اور تدفین قُم شہر میں ہو گی۔