.

سعودی شاہ کا لبنانی صدر سے دوطرفہ تعلقات اور عالمی امور پر تبادلہ خیال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کے صدر جنرل میشال عون نے الریاض میں سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے ملاقات کی ہے اور ان سے دوطرفہ تعلقات ،انھیں مزید فروغ دینے کے طریقوں ،عرب دنیا اور عالمی سطح پر ہونے والی تازہ پیش رفت کے بارے میں تبادلہ خیال کیا ہے۔

لبنانی صدر جب الیمامہ محل پہنچے تو شاہ سلمان نے بہ نفس نفیس اور الریاض کے گورنر شہزادہ فیصل بن بندر عبدالعزیز نے ان کا استقبال کیا۔خادم الحرمین الشریفین نے لبنانی صدر اور ان کے وفد کے اعزاز میں ظہرانہ بھی دیا۔

قبل ازیں میشال عون نے سوموار کی شب الاخباریہ ٹیلی ویژن سے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ''میرے سعودی عرب کے دورے کا مقصد ابہامات کا خاتمہ کرنا ہے۔میں سعودی عوام کے لیے دوستی اور دیانت داری کا پیغام لے کر آیا ہوں''۔

انھوں نے کہا کہ داخلی جنگوں کا صرف سیاسی مذاکرات کے ذریعے ہی خاتمہ کیا جاسکتا ہے۔انھوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔

انھوں نے کہا:''ہمیں دہشت گردی کے خلاف لڑنے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کی ضرورت ہے۔ہمیں سعودی عرب اور تمام ممالک کے ساتھ تعاون کی ضرورت ہے کیونکہ دہشت گردی صرف مشرق وسطیٰ کے ممالک تک محدود نہیں رہی ہے بلکہ یہ پوری دنیا میں پھیلی ہوئی ہے''۔

میشال عون نے لبنان کی صورت حال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ لبنان میں ایک روز توازن آئے گا۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ لبنان نے ہزاروں شامی مہاجرین کا بوجھ اٹھا رکھا ہے اور مختصر مدت میں آبادی میں اضافے کی وجہ سے ملک پر معاشی بوجھ بھی بڑھ گیا ہے۔

انھوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ پڑوسی ملک شام میں جاری بحران کا پرامن سیاسی طریقے سے حل تلاش کر لیا جائے گا تاکہ مہاجرین اپنے وطن کو لوٹ سکیں اور اس کی تعمیر نو کرسکیں۔

لبنانی صدر سوموار کو اعلیٰ سطح کے ایک وفد کے ہمراہ سعودی عرب کے دوروزہ سرکاری دورے پر الریاض پہنچے تھے۔ان کے دفتر نے ایک بیان میں بتایا تھا کہ وہ خادم الحرمین الشریفین کی دعوت پر یہ دورہ کررہے ہیں۔ان کے وفد میں شامل لبنانی وزراء نے سعودی وزراء سے دوطرفہ تعلقات کے فروغ کے لیے بات چیت کی ہے۔