.

سعودی مساجد دہشت گردوں کے نشانے پر!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی سیکیورٹی فورسز نے ہفتے کے روز ایک جرات مندانہ کارروائی کے دوران ریاض کی الیاسمین کالونی میں چھپے دہشت گرد طایع بن سالم بن یسلم الصیعری کو ٹھکانے لگا دیا مگر اس واقعے نے مساجد میں دہشت گردی اور خون خرابے کی ہولناک یادیں ایک بار پھر تازہ کردی ہیں۔

سعودی عرب میں داعشی داعشی دہشت گردوں نے مساجد کو جس بےرحمی کے ساتھ اپنے مذموم اور مجرمانہ مقاصد کے لیے استعمال کیا ہے وہ انسانی تاریخ کا ایک المناک باب ہے۔

ذیل میں گذشتہ تین سال میں دہشت گردی کی بھینٹ چڑھنے والی بعض مساجد اور ان پرحملوں کی تفصیلات پیش ہیں۔

دالوۃ الاحساء [ تین نومبر 2014ء]

سعودی عرب میں مساجد کو دہشت گردی کا نشانہ بنائے جانے کی جب تاریخ مرتب کی جائے گی تو بلا شبہ الاحساء گورنری کی مسجد دالوۃ کا نام سر فہرست رہے گا۔ اس مسجد پر دہشت گردوں نے تین نومبر 2014ء کو آتشیں اسلحہ اور مشین گنوں سے حملہ کیا جس کے نتیجے میں کم سے کم سات افراد شہید اور 9 زخمی ہوگئے تھے۔ اس حملے کی ذمہ داری داعش نےقبول کی۔

سعودی عرب کی سیکیورٹی فورسز کی طرف سے جاری کردہ بیانات میں بتایا گیا ہے کہ پولیس نے الاحساء میں مسجد الدالوۃ میں حملے میں ملوث بیشتر دہشت گردوں کو حراست میں لے لیا ہے۔

پولیس کے مطابق الاحساء میں دہشت گردی کے نیٹ ورک میں شامل شدت پسندوں کی تعداد 77 تھی۔ اس حملے کے مرکزی کرداروں سمیت سب کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ ان میں سے تین شدت پسندوں عبداللہ بن سعید آل سرحان، خالد بن زوید العنزی اور مروان بن ابراہیم الظفر کو عدالتوں سے دی گئی سزائیں ختم ہونے کے بعد رہا کیا جا چکا ہے۔ ان کے ایک ساتھی طارق بن مساعد المیمومی کے قبضے سے اسلحہ پکڑا گیا تھا تاہم وہ خود کسی کارروائی میں ملوث نہیں رہا ہے۔

قطیف میں مسجد امام علی [22 مئی 2015]ء

قطیف شہر میں القدیح قصبے کی مسجد امام علی بن ابو طالب پر ایک خود کش بمبار نے نماز جمعہ کے موقعے پر خود کو دھماکے سے اڑا دیا تھا جس کے نتیجے میں 22 نمازی شہید اور 102 زخمی ہوگئے تھے۔ داعش نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ سعودی عرب میں مساجد کو نشانہ بنانے کی ذمہ داری قبول کرنے کا یہ پہلا واقعہ تھا۔

دمام میں العنود کالونی میں دہشت گردی[29 مئی 2015ء]

سعودی عرب کے مشرقی علاقے دمام میں العنود کالونی میں واقع مسجد امام الحسین میں ایک دہشت گرد نے 29 مئی کو داخل ہو کر دہشت گردی کی کوشش کی۔ دہشت گرد خاتون کے روپ میں تھا، اس نے خود کو مسجد کے گیٹ پر دھماکے سے اڑا دیا جس کے نتیجے میں تین افراد جاں بحق ہوئے۔اس واقعے سے چند روز قبل القدیح کی مسجد میں ہونے والی دہشت گردی میں بیس سے زاید شہری نمازی شہید کیے جا چکے تھے۔

عسیر میں ایمرجنسی سروسز مسجد پر حملہ [6 اگست 2015ء]

دمام میں دہشت گردی کے واقعے کے تین ماہ بعد جنوب مغربی سعودی عرب میں دہشت گردوں نے پولیس کی ایمرجنسی سروسز کی مسجد میں خود کش دھماکہ کیا۔ اس کارروائی میں یوسف بن سلیمان عبداللہ السلیمان نامی خود کش بمبار نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا جس کے نتیجے میں 11 پولیس اہلکاروں سمیت 15 شہری شہید اور 33 زخمی ہوگئے تھے۔ زخمی ہونے والوں میں چار بنگالی شہری بھی شامل تھے۔ داعش نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

محاسن الاحساء [29 جنوری 2016ء]

سعودی عرب میں 47 دہشت گردوں کو قصاص کی سزا کے تحت موت کے گھاٹ اتارے جانے کے بعد الاحساء گورنری میں دہشت گردوں نے مسجد امام الرضا کو نشانہ بنایا۔الاحساء گورنری کی محاسن کالونی میں قائم مسجد الرضاء کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا۔ دہشت گردوں نے مسجد میں گھس کر دھماکہ کرنے کی کوشش کی تھی تاہم پولیس نے مشتبہ دہشت گردوں کو روکنے کی کوشش کی جس پر انہوں نے فائرنگ کردی۔ پولیس نے ایک دہشت گرد کو فائرنگ میں ہلاک کردیا تھا۔ اس واقعے میں چار شہری شہید اور 18 زخمی ہوگئے تھے۔ زخمی ہونے والوں میں دو سیکیورٹی اہلکار بھی شامل تھے۔

قطیف میں مسجد الشیخ فرج العمران میں دھماکہ

قطیف کی مسجد الشیخ فرج العمران میں دہشت گردی 4 جولائی 2016ء کو ہوئی۔ تین خود کش بمباروں نے مسجد اور اس سے متصل بازار کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی تاہم اس میں ایک ایشیائی باشندے سمیت متعدد افراد زخمی ہوگئے تھے۔

مدینہ منورہ میں مسجد نبوی کے قریب حملہ

چار جولائی 2016ء 29 رمضان المبارک کو ایک خود کش بمبار نے مدینہ منورہ میں مسجد نبوی کے قریب خود کو دھماکے سے اڑا دیا جس کے نتیجے میں چار اہلکار شہید اور پانچ زخمی ہوگئے تھے۔

سعودی وزارت داخلہ کے ترجمان کے مطابق مشتبہ دہشت گرد نے نماز مغرب کے وقت مسجد نبوی میں داخل ہو کر حملے کی کوشش کی تھی مگر سیکیورٹی اہلکاروں نے دہشت گرد کو مسجد سے باہر ہی روک لیا جس پر اس نے دھماکہ کردیا۔

قطیف میں مسجد الحیدریہ

قطیف گورنری کی مسجد الحیدریہ پر ایک خود کش بمبار نے 16 اکتوبر 2015ء کو حملہ کیا جس کے نتیجے میں مسجد کے قریب راہ گیروں سمیت پانچ افراد شہید ہوگئے تھے۔ شہداء میں ایک خاتون بھی شامل تھی۔

نجران کی مسجد المشہد

نجران شہر دحضہ کالونی میں واقع مسجد المشہد کو دہشت گردوں نے 26 اکتوبر 2015ء کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں مسجد میں موجود 2 نمازی شہید اور 19 زخمی ہوگئے تھے۔ یہ حملہ سعد سعید سعد الحارثی نامی داعشی دہشت گرد نے کیا تھا اور داعش نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔