.

’حج کے معاملات پر ایران اپنی ہٹ دھرمی پر بدستور قائم‘

تہران نے حج امور پر بات چیت کے لیے سعودی دعوت نظرانداز کی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی وزارت حج وعمرہ کی طرف سےجاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وزارت حج کی طرف سے پورے عالم اسلام کو رواں سال حج کے انتظامات سے متعلق سفارشات بھجوائیں مگر ایران کی جانب سے سعودی عرب کے حج انتظامات کی دعوت کو ٹھکرا دیا گیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سعودی وزارت حج میں ایرانی حجاج کے امور کے انچارج ڈاکٹر طلال قطب نے کہا کہ ریاض حکومت کی جانب سے دوسرے ملکوں کے ساتھ ایران کو بھی نئے سال حج سے متعلق لائحہ عمل طے کرنے، حجاج کی قیام گاہوں اور ان کی نقل وحرکت پر بات چیت کی دعوت دی گئی تھی مگر تہران نے وہ دعوت یکسر نظر انداز کردی۔

ان کا کہنا ہے کہ ایران کو سعودی وزارت خارجہ کے بجائے براہ راست وزارت حج وعمرہ کے توسط سے حج انتظامات پر بات چیت کی دعوت دی گئی تھی مگر تہران کی طرف سے ہٹ دھرمی اور لا پرواہی پر اصرار جاری رہا ہے۔

ڈاکٹر قطب کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کی طرف سے حسب دستور تمام مسلمان ملکوں اور مسلمان اقلیت کے حامل ممالک کو ان کے مخصوص حالات کے مطابق حج انتظامات طے کرنے اور حج کے معاملات پر ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے بات چیت کی دعوت دی گئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ ایرانی وزارت خارجہ کا بیان مضحکہ خیز ہے جس میں کہا گیا ہے کہ تہران کو سعودی عرب کی طرف سے حج کے امور پر کوئی دعوت نہیں ملی حالانکہ سعودی عرب نے 79 ملکوں کو حج کے امور پر دعوت نامے ارسال کیے، جس کے بعد رواں ماہ سے حج درخواستوں کی وصولی کا سلسلہ بھی شروع کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ رواں سالہ خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے حجاج کرام کی تعداد میں اضافے کی بھی منظوری دی ہے۔