.

قتل اور دھماکوں کی کارروائیوں میں رفسنجانی کا کردار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ہاشمی اکبر رفسنجانی کے اس دنیا سے رخصت ہونے کے بعد متعدد ذرائع ابلاغ سابق ایرانی صدر کے اُس کردار پر روشنی ڈال رہے ہیں جو انہوں نے اندرون اور بیرون ملک اپوزیشن شخصیات کی ہلاکتوں اور دھماکوں کی دہشت گرد کارروائیوں میں ادا کیا۔

رفسنجانی 1988 کے موسم گرما میں ہزاروں سیاسی قیدیوں کو موت کے گھاٹ اتارے جانے کے حوالے سے قتل عام میں ملوث رہے۔ انہوں نے 1980 سے 1989 تک پارلیمنٹ کے اسپیکر کی ذمے داری سنبھالی۔ ایران عراق جنگ کے اختتام سالوں میں خمینی نے رفسنجانی کو ایرانی مسلح افواج کا ناظم الامور مقرر کر دیا تھا۔

رفسنجانی کے دور میں ایران اور اس کے باہر ولایت فقیہ کے نظام کی مخالف اپوزیشن شخصیات کے خلاف خلاف قتل کی درجنوں کارروائیاں کی گئیں جن کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے :

- رفسنجانی کے صدر بننے کے ابتدائی دور میں 1989 میں ایران نے ویانا میں ایرانی کردستانی ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ عبدالرحمن قاسملو اور ان کے نائب کو اُس وقت قتل کروا دیا جب وہ ایران سے آئے ہوئے ایک وفد کے ساتھ مذاکرات کی میز پر موجود تھے۔

- اس کے اگلے برس 24 اپریل 1990 کو ایرانی انٹیلی جنس کے عناصر نے جنیوا میں کاظم رجوی کو ہلاک کر دیا جو ایرانی اپوزیشن تنظیم مجاہدین خلق کے سربراہ مسعود رجوی کا بھائی اور انسانی حقوق کا سرگرم کارکن تھا۔ اس کارروائی کے لیے ایرانی حکومت کے 13 سرکاری اہل کار سفارتی پاسپورٹ پر جنیوا آئے تھے۔

- 3 مئی 1991 کو ایران نے الاحواز عرب محاذ کے سکریٹری جنرل حسین ماضی کو بغداد میں تنظیم کے صدر دفتر میں موت کے گھاٹ اتار دیا۔

- اسی برس پیرس میں پاسداران انقلاب نے شاہ ایران محمد رضا پہلوی کے دور کے آخری وزیراعظم شاہ پور بختیار کو ہلاک کردیا، اس دوران ایک فرانسیسی سیکورٹی اہل کار اور ایک خاتون شہری بھی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

- 1992 میں رفسنجانی کے ہی دور میں ایران نے برلن میں ایرانی کردستانی ڈیموکریٹک پارٹی کے سیکریٹری جنرل صادق شرفقندی اور ان کے تین معاونین کو موت کی نیند سلادیا۔ کارروائی میں ملوث دو افراد میں سے ایک کا تعلق ایرانی پاسداران انقلاب اور دوسرے کا لبنانی تنظیم حزب اللہ سے تھا۔

- سال 1994 میں بیونس آئرس (ارجنٹائن) میں 85 سے زیادہ افراد کی ہلاکت اور تقریبا 300 کے زخمی ہونے کا سبب بننے والے دھماکوں کی کڑیاں بھی تہران حکومت سے جا کر ملیں۔ ارجنٹائن کی عدلیہ نے اس خون ریز کارروائی کی منصوبہ بندی اور نگرانی کے حوالے سے ایران کے 8 اعلی اہل کاروں کو ملزم ٹھہرایا جن میں سرفہرست اکبر ہاشمی رفسنجانی اور سابق وزیر دفاع احمد وحيدی تھے۔

ایرانی اپوزیشن کی جانب سے رفسنجانی پر یہ بھی الزام عائد کیا جاتا ہے کہ انہوں نے 1992 میں برلن (جرمنی) میں میکونوس ریستوران کو دھماکے سے اڑانے کی کارروائی کی خود نگرانی کی۔ کارروائی میں ایرانی کردستانی ڈیموکریٹک پارٹی کے 4 رہ نما ہلاک ہو گئے تھے جو اُس وقت ریستوران میں موجود تھے۔

امریکی اخبار "وال اسٹریٹ جرنل" نے جرمنی میں فوج داری عدالت میں انٹیلی جنس کے ایک افسر کی گواہی کی بنیاد پر بتایا کہ رفسنجانی باقاعدگی کے ساتھ ہمیشہ سے "خصوصی کارروائیوں کی کمیٹی" کے ساتھ ملاقات کرتے تھے جو بیرون ملک ہلاکتوں کی کوششوں کی نگرانی کیا کرتی تھی۔

- 1995 میں رفسنجانی کے ہی دور صدارت میں ایرانی نظام کے عناصر نے سعودی عرب میں "الخبر" ٹاوز کو دھماکے سے اڑا دیا جس کے نتیجے میں 19 امریکی فوجی مارے گئے تھے۔

اندرون ملک ہلاکتوں کا سلسلہ

دوسری جانب رفسنجانی کے دور میں اُس وقت کے وزیر انٹیلی جنس علی فلاحيان کے زیر قیادت "سلسلہ وار ہلاکتوں" کی لہر اُٹھی۔ اس دوران ایران میں درجنوں لکھاریوں اور سیاسی شخصیات کو موت کی نیند سلا دیا گیا۔

مذکورہ ہلاکتوں کی کارروائیاں مصباح یزدی ، جنتی اور دیگر سخت گیر مذہبی شخصیات کے فتوؤں کی بنیاد پر عمل میں لائی گئیں۔ اس حوالے سے ایک فہرست میں اِفشا ہو کر منظر عام پر آئی جس میں 197 دانش وروں اور لکھاریوں کو ہلاک کرنے کے لیے فتوؤں کا تقاضا کیا گیا تھا تاہم سابق صدر محمد خاتمی (1997 – 2005) کی قیادت میں اصلاح پسندوں کا ستارہ عروج پر آنے کے بعد اس پر عمل درامد موقوف ہو گیا تھا۔