.

شام کی جنگ میں لبنانیوں کی شرکت حکومتی فیصلہ نہیں:عون

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کے صدر میشل عون نے کہا ہے کہ ان کے ملک نے عرب مصلحت کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھایا اور شام کی جنگ میں لبنانی شہریوں کی شرکت حکومت کا فیصلہ نہیں۔

لبنانی صدر نے ان خیالات کا اظہار اپنے دورہ سعودی عرب کے موقع پر ’العربیہ‘ پر نشر ہونے والے پروگرام ’ترکی الدخیل کے ساتھ‘ میں خصوصی گفتگو کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ صدر منتخب ہونے کے بعد سعودی عرب پہلا ملک ہے جس نے انہیں دورے کی دعوت دی تھی۔

انہوں نے کہا کہ مجھے سعودی عرب کا دورہ کرکے خوشی ہوئی۔میں سعودی عرب آیا تاکہ بہت سے امور میں پائے جانے والے شبہات کا ازالہ کرسکوں۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب وہ ملک ہے جس کے ساتھ ہم دوستی کے انداز میں پروان چڑھے ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی پیدا کرنے کی کوئی ٹھوس وجہ نہیں۔ ہمیں اپنا اپنا موقف ایک دوسرے کے ساتھ واضح کرنا چاہیے۔ لبنان نے عرب مصلحت کے خلاف بالخصوص سعودی عرب کے خلاف کوئی اقدام نہیں کیا ہے۔

لبنانی صدر کا کہنا تھا کہ ان کے دورہ سعودی عرب کے بعد بیروت اور ریاض کے درمیان تعلقات اپنے دھارے میں واپس آگئے ہیں۔ دونوں ملک چاہتے ہیں کہ ان کے باہمی تعلقات ماضی کی طرح خوش گوار انداز میں آگے بڑھیں۔

خلیجی سیاحوں کی واپسی

ایک سوال کے جواب میں لبنانی صدر میشل عون نے کہا کہ خلیجی ممالک بالخصوص سعودی عرب کے سیاحوں کا لبنانی سیاحت کے فروغ میں بنیادی کردار رہا ہے۔ شام میں جاری خانہ جنگی اور اس کے بعض خطرات کے پیش نظر لبنان میں موجود سعودی شہریوں کو واپس اپنے ملک جانے کی تجویز پیش کی تھی۔ مگر اس نصیحت اور تجویز نے کئی قسم کے شکوک وشبہات کو جنم دیا۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ خلیجی ممالک بالخصوص سعودی عرب کے سیاح لبنان کے لیے اپنا سفر جلد بحال کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ شاہ سلمان کا سعودی شہریوں کے لبنان کے سفر کے لیے موقف واضح ہے۔

اسی ضمن میں ایک سوال کے جواب میں صدر عون نے کہا کہ سوائے ٹریفک حادثات کے اب غیرملکی شہریوں اور خلیجی سیاحوں کے لیے لبنان میں کوئی مشکل باقی نہیں رہی ہے۔ ہم خلیجی ممالک کے سرمایہ کاروں کو بھی خوش آمدید کہیں گے۔ لبنان سعودی شہریوں کے لیے اوپن مارکیٹ کی حیثیت رکھتا ہے اور ہم سعودی باشندوں کو لبنان میں سرمایہ کاری کی خصوصی طور پر دعوت دیتے ہیں۔

شام کی جنگ

شام کی جنگ کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں صدر عون نے کہا کہ ہم نہیں چاہتے کہ لبنان سے کسی دوسرے ملک کو گزند پہنچے۔ ہم شام سے دہشت گردوں کے لبنان داخلے کو بھی روکنے کی کوشش کررہے ہیں۔ لبنان کی بعض تنظیموں کے عناصر کا شام کی جنگ میں حصہ لینا حکومت کا فیصلہ یا ریاست کی پالیسی ہرگز نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صدر کی حیثیت سے مجھے کسی کے خلاف اور کسی کے حق میں رائے دینے کا کوئی حق نہیں ہے۔ میں تمام لبنانی شہریوں کا نمائندہ ہوں۔ شام کی خانہ جنگی کے حوالے سے لبنان میں کئی قسم کی آراء پائی جاتی ہیں۔ بہتر اور عقل سلیم کے لیے قابل قبول موف مثبت غیر جانب داری ہے۔ انھوں نے کہا کہ میں شام کے مسئلے کے سیاسی حل کا پرزور حامی ہوں کیونکہ غیرملکی مداخلت باہر سے جنگ بھڑکانے کا ذریعہ ثابت ہوتی ہے۔

اسلحہ ریاستی دھارے سے باہر

لبنان کے مسلح گروپوں بالخصوص حزب اللہ کے اسلحے کے بارے میں بات کرتے ہوئے صدر میشل عون نے تسلیم کیا کہ حزب اللہ کی مسلح کارروائیاں لبنانی قوم میں تقسیم کا موجب ہیں۔ بالخصوص کسی لبنانی گروپ کا دوسرے ملک میں جا کر لڑنا اور اپنی متوازی فوج تیار کرنا باعث تشویش ہے۔ اگرچہ انہوں نے حزب اللہ کا نام نہیں لیا مگر ان کا کہنا تھا کہ میں مزاحمت کا حامی ہوں دہشت گردی کا نہیں۔ میں ایسے کسی گروپ کے ساتھ نہیں ہوں جو اندرون ملک اسلحہ کا کھلے عام استعمال کرے۔

صدر عون نے فوج کو جدید جنگی وسائل سے لیس کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سے ملک کی دفاعی صلاحیت بہتر بنائی جا سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دوست ممالک کے ساتھ انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں معاون ثابت ہوگا۔