.

آستانہ مذاکرات ھنوز پراسرار، شرکاء کا تعین نہ ہوسکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک طرف روس اور ترکی کی کوششوں سے شام میں جاری تنازع کے حل کے لیے آستانہ میں مذاکرات کے چرچے ہیں تو دوسری طرف ابھی تک یہ واضح نہیں ہوسکا کہ آیا ان مذاکرات میں شام کے کون کون سے دھڑے شرکت کریں گے۔ یہی وجہ ہے کہ آستانہ مذاکرات تا حال پراسراریت کے پردوں میں چھپے ہوئے ہیں۔

العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق شام میں جنگ بندی کو آگے بڑھانے اور فریقین میں بات چیت شروع کرانے کے لیے روس اور ترکی نے 23 جنوری کی تاریخ مقرر کی ہے۔ آستانہ بات چیت کے لیے جس طرح کا ماحول سازگار بنانے کی ضرورت ہے وہ نہیں بنایا جاسکا۔ شامی فوج مختلف شہروں میں باغیوں کے ٹھکانوں پر مسلسل حملے کررہی ہے جس کے نتیجے میں آستانہ مذاکرات مزید الجھنوں کا شکار ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ انقرہ اور ماسکو کی مساعی سے شام میں 30 دسمبر کو جنگ بندی کا جو فیصلہ کیا گیا تھا وہ ہرآنے والے دن نئے خطرات میں گھرا نظر آتا ہے۔

جمعرات کی شام الحدث کے نامہ نگار نے روسی وزارت خارجہ کے ایک ذمہ دار مصدقہ ذریعے کے حوالے سے بتایا تھا کہ رواں ماہ کے آخر میں آستانہ میں ہونے والے مذاکرات میں روس اپنے مقرب شامی گروپوں کو شرکت کی دعوت دے گا۔ جب کہ شام کے لیے اقوام متحدہ کے امن ایلچی اسٹیفن دی میستورا کا کہنا ہے کہ انہیں ابھی تک آستانہ مذاکرات میں شرکت کی دعوت نہیں ملی۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ مذاکرات جب اور جہاں بھی ہوں اقوام متحدہ اس کی حمایت کرے گا کیونکہ بات چیت کا آغاز جنیوا مذاکرات کی بحالی کا نقطہ آغاز ہوگی۔

مبہم مذاکرات

آستانہ مذاکرات کا جس شدت کے ساتھ ڈھنڈورہ پیٹا جا رہا ہے، یہ مذاکرات اتنے ہی پراسرار لگ رہے ہیں۔ ماسکو اور روس کی کوششوں سے ہونے والی شامی امن کانفرنس میں کون کون سے گروپ شرکت کریں گے اور کس کو شریک نہیں کیا جائے گا یہ تاحال طے نہیں ہوسکا۔ اس کے علاوہ بھی کئی سوالات اپنی جگہ موجود ہیں۔ فریقین میں کس قسم کی مفاہمت کا امکان ہے۔ مسئلے کے پرامن سیاسی حل کی بنیادی جزئیات کیا ہوں گی؟ اب تک اس سارے مرحلے میں صرف یہ طے ہوسکا ہے کہ مذاکرات آستانہ میں ہوں گے اور ان کی نگرانی روس اور ترکی کریں گے۔

ابھی تک اقوام متحدہ کو بھی باضابطہ طور پر آستانہ مذاکرات کی دعوت اور اس کے ایجنڈے کے بارے میں کسی قسم کی معلومات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔

قزاقستان کے دارالحکومت میں ہونے والے مذاکرات کو اقوام متحدہ کے شام بارے امن ایلچی اسٹیفن دی میستورا کی طرف سے حمایت کا اظہار کیا گیا ہے۔ دی میستورا کا کہنا ہے کہ دعوت نہ ملنے کے باوجود وہ آستانہ مذاکرات میں شرکت اور انہیں کامیاب بنانے کو اولین ترجیح دے رہے ہیں۔ اس ضمن میں انہوں نے روسی صدر ولادی میر پوتن سے رابطہ رکھا ہے۔

العربیہ کے ماسکو میں نامہ نگار کے مطابق روسی وزارت خارجہ شامی اپوزیشن کی تمام نمائندہ اعتدال پسند قوتوں کو شریک کرنے کا خوہاں ہے اور وہ 23 کے بجائے 26 اور 27 جنوری کو آستانہ مذاکرات میں دلچسپی رکھتا ہے تاکہ آئندہ ماہ جنیوا میں ہونے والے مذاکرات کے لیے آستانہ بات چیت کو کامیاب بنایا جاسکے۔

کل جمعرات کی شام تک ذرائع نے آستانہ مذاکرات میں شریک ہونے والے گروپوں کے بارے میں جو تفصیلات فراہم کی تھیں ان میں 6 نام پیش کیے گئے تھے۔ ان میں سے شامی نیشنل کونسل اور نیشنل الائنس کا کوئی رکن نہیں، سب روس کی مقرب رندا قسیس ، قدری جمیل اور لوئی الحسین جیسی شخصیات تھیں، کردوں میں کرد ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین صالح مسلم کی شرکت متوقع ہے مگر ترکی کو کردوں کی نمائندگی پر اعتراض ہوگا۔