.

اسد رجیم کے مزید 18 اہم ارکان امریکی بلیک لسٹ میں شامل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے پہلی بار شامی حکومت کی ڈیڑھ درجن اہم شخصیات کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا ہے۔ وائیٹ ہاؤس کی طرف سے پہلی بار بشارالاسد کے 18 مقربین جن میں کیمیائی اسلحہ کے استعمال کے الزامات کا سامنا کرنے والے عہدیدار بھی شامل ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق امریکی وزارت خزانہ کی طرف سے بلیک لسٹ کی گئی شخصیات کی فہرست میں شامی ریسرچ سینٹرل کے عہدیدار اور ایک سینیر فوجی افسر بھی شامل ہے۔

امریکی محکمہ خزانہ کے شعبہ انسداد دہشت گردی سے وابستہ آدم زوبن نے شامی شخصیات کو بلیک لسٹ کیے جانے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اسد رجیم کی طرف سے اپنی قوم کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال سنگین جرم اور عالمی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسد رجیم طویل عرصے سے پوری دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتی رہی ہے کہ وہ نہ تو کیمیائی ہتھیار تیار کررہی ہے اور نہ ممنوعہ اسلحہ عوام کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔

امریکی وزارت خزانہ کی ویب سائیٹ پر پوسٹ ایک خبرمیں کہا گیا ہے کہ شام میں حکومتی شخصیات پر پابندیاں اقوام متحدہ کی اس رپورٹ کی روشنی میں عاید کی گئی ہیں جس میں یہ کہا گیا ہے کہ اسد رجیم نہتے شہریوں کے خلاف کلورین گیس جیسا مہلک اسلحہ استعمال کرنے کی مرتکب ہوئی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شامی رجیم کے عناصر پرپابندیاں اکتوبر 2016ء کو اقوام متحدہ کی طرف سے جاری کردہ اس رپورٹ کی روشنی میں عاید کی گئی ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ شامی فوج نے سنہ 2014ء اور 2015ء کے دوران شمال مغربی شام کے ادلب شہر میں تل منس، قیمنس اور سرمین میں تین پر کلورین گیس سے عام شہریوں پر حملے کیے تھے۔

پابندیوں کی زد میں شامی حکومت کی فضائیہ، نیول فول، ری پبلیکن گارڈز، ٹیکنیکل انڈسٹریل فاؤنڈیشن اور دیگر ادارے اور شخصیات شامل ہیں۔