.

آستانہ مذاکرات23 جنوری کو ہوں گے:ترکی،دعوت نہیں ملی:امریکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک ایوان صدر نے شام میں قیام امن کے لیے آستانہ میں ہونے والے مذاکرات کے لیے 23 جنوری کی تاریخ مقرر کی ہے اور کہا ہے کہ ان مذاکرات میں امریکا بھی شرکت کرے گا۔ دوسری جانب امریکی حکومت نے آستانہ مذاکرات میں شرکت کی دعوت سے لا علمی کا اظہار کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ترک ایوان صدر کے ترجمان ابراہیم کالین نے جمعہ کے روز انقرہ میں صحافیوں کو بتایا کہ آستانہ میں شام پرہونے والے مذاکرات کے لیے 23 جنوری کی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات میں امریکا کوبھی شریک کیا جائے گا۔

ادھر دوسری جانب امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان مارک ٹونر نے واشنگٹن میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک شام میں قیام امن کے لیے ہونے والی کسی بھی بات چیت کی حمایت کرے گا تاہم آستانہ مذاکرات میں شرکت کے لیے انہیں کسی قسم کی دعوت نہیں ملی ہے۔

ٹرمپ آستانہ مذاکرات میں شرکت کریں: اوباما

امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ امریکا آستانہ بات چیت کی مکمل تائید اور حمایت کرتا ہے۔ صدر باراک اوباما نے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر زور دیا ہے کہ وہ آستانہ مذاکرات میں امریکی شرکت کو یقینی بنائیں۔

مارک ٹونر کا کہنا تھا کہ اگرچہ ہمیں باضابطہ طور پر آستانہ مذاکرات میں شرکت کی دعوت نہیں ملی مگرامریکا کی موجودہ حکومت کو آستانہ مذاکرات پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ مسٹر مارک ٹونر کا کہنا تھا کہ اگرچہ آستانہ مذاکرات کی تاریخ مثالی نہیں مگر ہمیں شرکت کی دعوت دی گئی تو ہم نئی امریکی حکومت کو مذاکرات میں شرکت کا کہیں گے۔

آستانہ مذاکرات کے شرکاء کا مسئلہ

آستانہ میں ہونے والے مذاکرات میں شامی اپوزیشن کی طرف سے کون شرکت کرے گا؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا تعین نہیں کیا جاسکا ہے۔ شام میں 30 دسمبر 2016ء کو جنگ بندی پر متفق ہونے والے بیشتر شامی اپوزیشن کے گروپوں نے آستانہ مذاکرات کا بائیکاٹ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر صدر بشارالاسد کی وفادار فورسز کی طرف سے جنگ بندی کی خلاف ورزیاں جاری رہتی ہیں تو بات چیت میں شرکت کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

کل جمعہ کو شامی اپوزیشن کی طرف سے آستانہ مذاکرات میں شرکت پر مشروط آمادگی کا اظہار کیا گیا ہے۔ اپوزیشن کی جانب سے پیش کردہ شرائط میں کہا گیا ہے کہ شام میں جنگ بندی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی مبصر تعینات کیے جائیں اور جنگ بندی کو پورے ملک میں نافذ کیا جائے۔

قبل ازیں جمعرات کو روس کی جانب سے کہا گیا تھا کہ وہ شام میں متحارب فریقین کے درمیان براہ راست بات چیت شروع کرانے کی تیاری کررہا ہے۔ ماسکو سے العربیہ کے نامہ نگار نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ روسی محکمہ خارجہ شامی اپوزیشن کے روس کے مقرب رہ نماؤں کو آستانہ مذاکرات میں شریک کرانے کی کوشش کررہا ہے۔