.

ایران: بدعنوانی کے الزام میں تین انٹیلی جنس اہلکار گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں اصلاح پسندوں کے مقرب ذرائع ابلاغ نے خبر دی ہے کہ پولیس نے جمعہ کے روز پاسداران انقلاب کے انٹیلی جنس شعبے کے تین اہم عہدیداروں کو حراست میں لیا ہے جن سے منی لانڈرنگ اور کرپشن کے الزامات کے تحت پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔

فارسی نیوز ویب پورٹل ‘‘آمد نیوز‘‘ نے باثوق ذریعے نے پاسداران انقلاب کےانٹیلی جنس شعبے کے معاون حسین طائب کے حوالے سے بتایا ہے کہ انٹیلی جنس شعبے سے وابستہ تین عہدیداروں محرب اور عظیم اور فشاری کو حراست میں لیا گیا ہے۔ ان پر مالی بدعنوانی، تاجروں کو بلیک میل کرنے اور منی لانڈرنگ جیسے کیسز کے الزامات ہیں۔

ویب پورٹل کے مطابق حراست میں لیے گئے ملزمان پر گذشتہ اکتوبر میں تیل سے بھرا ایک ٹینکر بیرون ملک اسمگل کرنے کا بھی الزام عاید کیا گیا ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب کے صف اول کے عہدیدار حسین طائب کے تین معاونین کی گرفتاری کے احکامات حال ہی میں پاسداران انقلاب کے مقرر کردہ وائس چیئرمین جنرل حسین نجات کے حکم پرعمل میں لائی گئی۔ جنرل نجات کو پاسداران انقلاب کے سربراہ جنرل محمد علی جعفری کی خصوصی سفارش پر اس عہدے پر فائز کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ ایران میں سیاسی اور اعلیٰ فوجی شخصیات کے کرپشن میں ملوث ہونے کے کیسز کوئی نئی بات نہیں۔ ایران میں کرپشن کہانیوں کا ایک بڑا اسکینڈل اس وقت سامنے آیا تھا جب ارب پتی اور سزائے موت کے قیدی بابک زنجانی نے کچھ عرصہ قبل انکشاف کیا تھا کہ انہوں نے 2013ء کے صدارتی انتخابات کے دوران حسن روحانی کو رقوم فراہم کی تھیں۔ اس انکشاف کے بعد جوڈیشل اتھارٹی کے چیئرمین صادق آملی لاریجانی نے صدر روحانی کے خلاف سخت غم وغصے کا اظہار کیا تھا۔

مگر دوسری طرف اصلاح پسندوں نے جوڈیشل اتھارٹی کی کرپشن کا بھی بھانڈہ پھوڑ ڈالا اور انکشاف کیا تھا کہ صادق آملی لاری جانی کے ایرانی بنکوں میں 63 اکاؤنٹس ہیں میں بھاری رقوم موجود ہیں اور وہ ہرماہ اربوں میں منافع کماتے ہیں۔