.

سعودی عرب میں داعش مخالف عالمی اتحاد کے فوجی سربراہان کا اجلاس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

داعش کے خلاف عالمی اتحاد میں شامل ممالک کے فوجی سربراہان (چیفس آف جنرل اسٹاف) کا آج اتوار کو سعودی عرب کے دارالحکومت الریاض میں اجلاس ہورہا ہے۔ اجلاس میں ان ممالک کے درمیان داعش کے خلاف جنگ میں تعاون بڑھانے کے طریقوں پر غور کیا جائے گا۔

سعودی عرب کی سرکاری خبررساں ایجنسی (ایس پی اے) کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق اجلاس میں چودہ ممالک سعودی عرب ،امریکا ،اردن ،متحدہ عرب امارات ،بحرین ،ترکی ،تیونس ،اومان ،قطر ،کویت ،لبنان ،ملائشیا ،مراکش اور نائیجیریا کے فوجی سربراہان شرکت کریں گے اور وہ داعش کی صلاحیتوں کو تباہ کرنے اور ناکارہ بنانے سے متعلق حکمت عملی اور کوششوں کو مربوط بنانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کریں گے۔

سعودی عرب کے چیف آف جنرل اسٹاف جنرل عبدالرحمان صالح البنیان نے کہا ہے کہ ''سعودی مملکت خطے اور پوری دنیا کی سلامتی اور تحفظ کے لیے خطرہ بننے والے دہشت گرد گروپوں اور تنظیموں کے خلاف تمام بین الاقوامی کوششوں کی حمایت کے لیے پُرعزم ہے''۔

انھوں نے کہا کہ سعودی قیادت اور نائب ولی عہد ،نائب وزیراعظم دوم اور وزیردفاع شہزادہ محمد بن سلمان کی رہ نمائی میں یہ اجلاس دہشت گرد تنظیموں کا مقابلہ کرنے کے لیے تمام بین الاقوامی کوششوں کی حمایت کا مظہر ہے۔

انھوں نے کہا کہ سعودی عرب مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقا کے خطے کی سلامتی اور تحفظ کے لیے خطرے کے موجب تمام دہشت گرد گروپوں اور تنظیموں کے خلاف بین الاقوامی تعاون کے لیے پُرعزم ہے تاکہ عالمی امن اور سلامتی کو درپیش ممکنہ خطرات اور بالآخر ان دہشت گرد گروپوں کا خاتمہ کیا جاسکے۔

واضح رہے کہ سعودی عرب پہلا ملک ہے جس نے دہشت گردی کی تمام شکلوں کے خلاف تمام محاذوں ۔۔۔۔۔عسکری ،مالی اور دانشورانہ ۔۔۔۔۔ پر ایک اتحاد کے قیام پر زور دیا تھا۔

سعودی عرب کی کوششوں کے نتیجے میں 2014ء میں داعش کے خلاف ایک عالمی اتحاد تشکیل پایا تھا۔تب سے اب تک سعودی عرب نے عراق میں امدادی سرگرمیوں کے لیے پچاس کروڑ ڈالرز کا عطیہ دیا ہے۔اس نے داعش کے خلاف فضائی حملوں میں حصہ لیا ہے اور اتحاد میں شامل ممالک کی سراغرسانی کی کارروائیوں میں معاونت کی ہے۔