.

ڈونلڈ ٹرمپ کا شہری حقوق کے علمبردار ڈیمو کریٹ پر ''ٹویٹر حملہ''

ڈیمو کریٹک رکن کانگریس نومنتخب صدر کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت نہیں کریں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا میں شہری حقوق کے علمبردار سیاہ فام رہ نما مارٹن لوتھر کنگ کی یاد میں یہ ہفتہ منایا جارہا ہے اور نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس ہفتے کا آغاز انسانی حقوق کے ایک اور علمبردار پر ٹویٹر حملے سے کیا ہے کیونکہ انھوں نے یہ کہا تھا کہ ٹرمپ امریکا کے جائز منتخب صدر نہیں ہیں۔

ریاست جارجیا سے تعلق رکھنے والے ڈیمو کریٹک پارٹی کے رکن کانگریس جان لیوس نے این بی سی کے پروگرام میٹ دا پریس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ روسیوں کی ہیکنگ سے ڈونلڈ ٹرمپ کوجیت میں مدد ملی تھی۔مسٹر لیوس نے مزید کہا ہے کہ وہ 20 جنوری کو ڈونلڈ ٹرمپ کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے ہیں۔1986؁ میں امریکی ایوان نمائندگان کا پہلی مرتبہ رکن منتخب ہونے کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ وہ کسی صدر کی حلف برداری میں شریک نہیں ہوں گے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اس کے ردعمل میں اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر ایک بیان جاری کیا ہے اور کہا ہے کہ لیوس غلط طور پر انتخابی نتائج سے متعلق شکایت کررہے ہیں۔اس کے بجائے انھیں اپنا زیادہ وقت اپنے ضلع کے مسائل کے حل پر صرف کرنا چاہیے کیونکہ وہ تار تار ہورہا ہے’’۔تاہم انھوں نے مسٹر لیوس کے حلقۂ انتخاب میں جرائم کا حوالہ نہیں دیا ہے۔

ٹرمپ نے یہ الفاظ ٹویٹ کیے ہیں:‘‘ تمام باتیں ،باتیں ہی باتیں ،کوئی عملی اقدام یا نتائج نہیں۔افسوس’’۔

واضح رہے کہ 76 سالہ لیوس امریکا میں گذشتہ نصف صدی سے زیادہ عرصے سے انسانی حقوق کے علمبردار چلے آرہے ہیں۔انھیں پولیس نے 1965؁ میں الاباما کے علاقے سلما میں ایک ریلی کے دوران میں تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔انھوں نے اس روز مارٹن لوتھر کنگ کے ساتھ امریکا کے سیاسی فاموں کو ووٹ کا حق دلانے کے لیے مظاہرہ کیا تھا۔

مسٹر لیوس نے این بی سی کے پروگرام میں ٹرمپ کے تند وتیز ٹویٹر کے جواب میں صرف اتنا کہا ہے کہ ‘‘ میں معافی میں یقین رکھتا ہوں اور لوگوں کے ساتھ مل کر کام کرنے میں یقین رکھتا ہوں ۔یہ بہت مشکل نظر آرہا ہے۔میں اس نومنتخب صدر کو جائز صدر نہیں سمجھتا ہوں’’۔