.

ایران نے ایک ہفتے کے دوران 8 ہزار افغان پناہ گزین بے دخل کردیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ رواں سال کے ابتدائی چند ایام کے دوران ایران نے اپنے ہاں عارضی طور پر مقیم 8 ہزار افغان پناہ گزینوں کو ملک سے بے دخل کردیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اقوام متحدہ کی طرف سے جاری کردہ بیان میں افغان پناہ گزینوں کی موجودہ حالات میں ملک بدری باعث تشویش ہے کیونکہ واپس اپنے ملک میں جانے والے پناہ گزینوں کے پاس اقتصادی اورمعاشی وسائل نہ ہونے کے برابر ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے بھی اپنے ہاں قیام پذیر غیرقانونی افغان پناہ گزینوں کی بے دخلی کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ پاکستان کی جانب سے رواں سال کے ابتدائی چند ایام میں 1650 افغان مہاجرین کو بے دخل کیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ افغان حکومت پڑوسی ملکوں کی طرف سے بےدخل کردہ اپنے باشندوں کی آباد کاری کے لیے عملی طور پرتیار نہیں۔ اس لیے ان پناہ گزینوں کے واپس افغانستان پہنچنے پرانہیں بدترین معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

خیال رہے کہ افغانستان میں گذشتہ کئی عشروں سے جاری خانہ جنگی کے دوران بڑی تعداد میں افغان پناہ گزین ایران اور پاکستان میں پناہ لینے پرمجبور ہوئے تھے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق ایرانی حکومت کی جانب سے روز اول سے افغان مہاجرین کے ساتھ مجرمانہ بدسلوکی کا مظاہرہ کیا جاتا رہا ہے۔ ایرانی رجیم افغان مہاجرین کے ساتھ نسل پرستانہ سلوک روا رکھے ہوئےہے۔

گذشتہ برس ستمبر میں ایرانی ذرائع ابلاغ نے بھی حراست میں لیے گئے افغان مہاجرین کی تصاویر شایع کی تھیں۔ ان تصاویر میں افغان شہریوں کو شیراز شہر میں بھیڑ بکریوں کی طرح تنگ اور تاریک جگہوں میں ٹھونسے دکھایا گیا تھا۔