.

گوانتا ناموبے کے حراستی مرکز سے 10 قیدی اومان منتقل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے کیوبا میں واقع جزیرے گوانتانامو بے میں قائم بدنام زمانہ فوجی حراستی مرکز سے دس قیدیوں کو خلیجی ریاست اومان منتقل کردیا گیا ہے۔

اومانی وزارت خارجہ نے سوموار کو جاری کردہ ایک بیان میں ان قیدیوں کی منتقلی کی اطلاع دی ہے لیکن اس نے ان کی قومیت ظاہر نہیں کی ہے۔یہ افراد اومان میں عارضی طور پر قیام پذیر رہیں گے۔

امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان کی جانب سے 6 جنوری کو جاری کردہ اعداد وشمار کے مطابق گوانتا نامو بے کے حراستی مرکز میں قید افراد کی تعداد پینتالیس رہ گئی تھی۔ان میں سے چار کو گذشتہ ہفتے سعودی عرب بھیجے جانے کی اطلاع سامنے آئی تھی۔

صدر براک اوباما اپنی مدت صدارت ختم ہونے سے قبل گوانتاناموبے کے عقوبت خانے میں باقی رہ جانے والے قیدیوں کو جلد سے جلد ان کے آبائی ممالک یا دوسرے ممالک کو بھیجنا چاہتے ہیں جبکہ نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ ان محروسین کی بیرون ملک منتقلی کی مخالفت کرچکے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ یہ عمل روک دیا جائے۔

صدر براک اوباما 20 جنوری کو ڈونلڈ ٹرمپ کی حلف برداری سے قبل انیس قیدیوں کو اٹلی ،اومان اور متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب منتقل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اگر ان کے فیصلے پر عمل کیا جاتا ہے تو پھر گوانتا نامو بے میں چالیس سے بھی کم قیدی رہ جائیں گے۔

جنوری 2002ء میں اس بدنام زمانہ حراستی مرکز کے قیام کے بعد قیدیوں کی یہ سب سے کم تعداد ہوگی۔ ان مشتبہ افراد کو امریکا کی دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کے دوران مختلف ممالک سے گرفتار کرکے گوانتانامو بے منتقل کیا گیا تھا لیکن ان کے خلاف کسی امریکی عدالت میں مقدمہ نہیں چلایا گیا اور انھیں پندرہ سال تک ایسے ہی زیر حراست رکھا گیا ہے۔

صدر براک اوباما نے جنوری 2009 میں اپنا عہدہ سنبھالنے کے بعد اس حراستی مرکز کو بند کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن کانگریس نے ان کے فیصلے کی مخالفت کی تھی اور ان قیدیوں کو کسی بھی سبب کی بنا پر امریکی سرزمین پر منتقل کرنے پر پابندی کردی تھی اور انھیں بیرون ملک بھیجنے پر بھی قدغنیں عاید کردی تھیں۔ تاہم بعد میں کانگریس نے ان قدغنوں میں نرمی کر دی تھی۔