.

جنوبی کوریا میں سام سنگ کے سربراہ کی گرفتاری کی کوششیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جنوبی کوریا میں استغاثہ کے خصوصی دفتر نے پیر کے روز بتایا ہے کہ ملک میں سب سے بڑے اقتصادی گروپ "سام سنگ" کے سربراہ کے گرفتاری کے وارنٹ جاری کروانے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ گروپ کے سربراہ لی جائے یونگ پر ملک کی صدر پاک گُن ہے کی ایک دوست کو لاکھوں ڈالر بطور رشوت دینے کا الزام ہے۔

اس حوالے سے تحقیقات کے سلسلے میں لی جائے یونگ سے گزشتہ ہفتے کے دوران مسلسل 22 گھنٹوں تک پوچھ گچھ جاری رہی۔ بدعنوانی سے متعلق اس معاملے کے نتیجے میں پارلیمنٹ کی جانب سے گزشتہ ماہ صدر پاک گُن سے بھی پوچھ گچھ کی گئی تھی۔

استغاثہ کے دفتر نے لی جائے یونگ پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے صدر کی دوست اور کرپشن اسکینڈل کی مرکزی کردار چُوئی سُن سِل کو 43 ارب وان یعنی تقریبا 3.64 کروڑ ڈالر ادا کیے ۔

مئی 2014 میں لی جائے یونگ کے والد جو کہ سام سنگ گروپ کے بانی ہیں انہیں دل کا دورہ پڑا تھا جس کے بعد لی جائے ہی عملی طور پر گروپ کے سربراہ بن گئے۔ لی جائے پر عائد دیگر الزامات میں جعل سازی اور جھوٹا حلف نامہ پیش کرنا شامل ہے۔

سؤل میں مقامی عدالت نے بتایا ہے کہ بدھ کے روز صبح منعقد کیے جانے والے سیشن میں گرفتاری کے وارنٹ کا فیصلہ کیا جائے گا۔

سام سنگ گروپ کا کہنا ہے کہ لی جائے کے خلاف رشوت کے الزامات قبول نہیں کیے جا سکتے۔ ایک ای میل بیان میں گروپ نے خصوصی استغاثہ کے فیصلے کو ناقابلِ فہم قرار دیا۔

استغاثہ اس امر کی تحقیقات کر رہا ہے کہ آیا سام سنگ نے ایک متنازع کاروباری فیصلے کے لیے سیاسی حمایت حاصل کرنے کے بدلے صدر کی دوست چُوئی سُون سِل کی حمایت یافتہ کمپنی اور اداروں کو امداد پیش کی یا نہیں۔

چُوئی اس وقت زیر حراست ہیں اور ان کے خلاف اثر و رسوخ کے ناجائز استعمال کے الزام میں عدالتی کارروائی جاری ہے۔ آج کی سماعت میں چُوئی نے ایک مرتبہ پھر خود پر عائد الزامات کی تردید کی۔

موبائل فون ، ایل سی ڈیز اور دیگر الکٹرونک مصنوعات کے حوالے سے عالم گیر شہرت کی حامل کمپنی سام سنگ کے حصص کی قیمت میں بدستور مندی دیکھی جا رہی ہے اور پیر کے روز بھی اس میں 2.3%. کی کمی ہوئی۔