.

مرکل کے ساتھ "سيلفی" لینے والے شامی نوجوان کا فیس بک پر مقدمہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جرمنی میں ایک 19 سالہ شامی نوجوان انس مودامانی نے فیس بک کمپنی کے خلاف عدالتی کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔ انس کا موقف ہے کہ فیس بک نے اُس کی 2015 کی ایک تصویر پر کیے جانے والے غلط تبصروں کو روکنے کے لیے کوئی اقدام نہیں کیا جن میں اس شامی نوجوان پر دہشت گردی کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔

انگلا مرکل کے ساتھ مشہور "سيلفی" تصویر کے حامل انس نے فیس بک کو ذمے دار ٹھہرایا ہے کہ اس نے صحیح معلومات کے بغیر ہی انس کی تصویر کو پھیلا دیا۔

یاد رہے کہ انس مودامانی شام میں انٹرمیڈیٹ مکمل کرنے کے بعد فرار ہو کر جرمنی آ گیا تھا اور اب وہ برلن میں بطور اکاؤنٹنٹ کام کر رہا ہے۔

مذکورہ سیلفی 2015 میں اس وقت لی گئی جب اینگلا مرکل نے برلن کے مغرب میں واقع علاقے Spandau میں پناہ گزینوں کے ایک کیمپ کا دورہ کیا تھا۔ اس کے بعد یہ تصویر انتہائی تیزی سے سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔

مودامانی نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کی انگریزی ویب سائٹ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ "واضح طور پر اس امر سے میری ساکھ کو نقصان پہنچے گا.. میں کام کرتا ہوں اور اپنی تعلیم میں اچھے نتائج لیتا ہوں"۔

اس تصویر کے لیے جانے کے تقریبا ایک برس بعد یہ پھر سے پھیل گئی تاہم اس مرتبہ ساتھ میں کچھ تبصرے بھی تھے جن میں مودامانی کا بعض دہشت گرد کارروائیوں کے ساتھ تعلق کا دعوی کیا گیا۔

مارچ 2016 میں مودامانی کی تصویر پیرس اور برسلز حملوں کے اہم ترین مشتبہ کردار نجیم العشراوی کے نام سے پھیل گئی۔ پھر کچھ دورانیے کے بعد یہ ہی تصویر اس دعوے کے ساتھ پھیلائی گئی کہ یہ نوجوان جرمنی کے شہر آنسباخ میں خود کش حملہ کرنے والا تھا۔

مودامانی کا کہنا ہے کہ اس کی تصویر کا غلط استعمال کرنے والوں میں اکثریت ان لوگوں کی ہے جو پناہ گزینوں کے حوالے سے مرکل کی پالیسی کے مخالف ہیں۔

بعد ازاں کرسمس کے موقع پر کچھ عرصہ قبل جرمنی کے ایک بازار میں پیش آنے والے ٹرک کے واقعے میں مودامانی کی تصویر کو ایڈٹ کرنے کے بعد ٹرک ڈرائیور کے طور پر پیش کیا گیا۔

مودامانی کے مطابق جرمنی کے جنوبی شہر فورٹس برگ میں مقدمے کی پہلی سماعت 6 فروری کو ہوگی۔