.

امریکا کا منتخب صدر 'بیگناہی' ثابت کرنے کے لئے صحافی کی ٹویٹ کا سہارا لینے پر مجبور!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا ٹیویٹ میں معروف صحافی بوب وُڈورڈ کا شکریہ ادا کیا ہے۔

واضح رہے کہ معروف تحقیقاتی صحافی بوب وُڈورڈ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ سے وابستہ رہے ہیں اور ستر کی دہائی میں ان کی شہرہ آفاق تحقیقاتی رپورٹنگ نے امریکی سیاست میں کئی پنڈروا باکس کھولے جن کا انجام اس وقت کے صدر رچرڈ نکسن کی اقتدار سے محرومی کی صورت میں نکلا۔

سابق صحافی وڈورڈ نے ٹرمپ کے روس کے ساتھ تعلق اور امریکی صدارتی انتخابات میں روسی مداخلت کے دعوؤں سے متعلق انٹیلی جنس رپورٹ کو "کچرا" قرار دیا تھا۔ وڈورڈ کے مطابق "اس دستاویز کو انٹیلی جنس رپورٹ کے طور پر ہر گز پیش نہیں کیا جانا چاہیے تھا "۔ معروف صحافی نے "فوكس نيوز" سے گفتگو کرتے ہوئے باور کرایا کہ " ٹرمپ کا حق ہے کہ وہ ناراضی کا اظہار کریں۔ میں سمجھتا ہوں کہ انٹیلی جنس اہل کاروں سے یہاں غلطی ہوئی ہے اور جو غلطی کرے اس پر لازم ہے کہ معافی بھی مانگے"۔

اس سے قبل ٹرمپ نے معروف ویب سائٹ BuzzFeed پر بھرپور انداز سے برستے ہوئے اسے "کچرے کا ڈھیر" قرار دیا اور اس کے خلاف کارروائی کی دھمکی بھی دی۔ مذکورہ ویب سائٹ پر جاری رپورٹ میں دعوی کیا گیا تھا کہ روس کے پاس ٹرمپ سے متعلق "غیر اخلاقی" معلومات ہیں۔

صدارتی انتخابات میں جیت کے بعد نیویارک میں اپنی پہلی پریس کانفرنس میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ " میرے نزدیک انٹیلی جنس ایجنسیوں کی جانب سے غلط اور من گھڑت خبریں پھیلانا یقینا شرم ناک امر ہے"۔

امریکا میں انٹیلی جنس ایجنسیوں کی رپورٹوں میں کہا گیا تھا کہ انہیں اس بات پر پورا اعتماد ہے کہ حالیہ امریکی صدارتی انتخابات میں ہیکنگ کی کارروائیوں میں روس ملوث ہے.. انتخابات میں ٹرمپ کرسی صدارت پر پہنچ گئے جب کہ ان کی حریف ڈیموکریٹک امیدوار ہیلری کلنٹن شکست سے دوچار ہوئیں۔

تاہم منتخب صدر ٹرمپ کی عبوری ٹیم نے امریکی انٹیلی جنس رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ " یہ وہ ہی لوگ ہیں جنہوں نے دعوی کیا تھا کہ صدام حسین کے پاس وسیع تباہی پھیلانے والے ہتھیار ہیں"۔