.

ٹرمپ پہلے ہی روز حماس اور حزب اللہ کے بارے میں کیا جانیں گے ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران بہت سے وعدے کیے پر اب وہ مشکل صورت حال میں اُلجھے ہوئے نظر آ رہے اس لیے کہ وہ ان میں سے بعض وعدوں پر اپنے منصب سنبھالنے کے پہلے روز سے ہی عمل درامد کا عہد کر چکے ہیں۔ دوسری سیاسی حلقوں میں بھی ان کی حمایت اور تائید میں واضح تقسیم نظر آ رہی ہے۔ اتوار کے روز تک کانگریس میں ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے تقریبا 19 ارکان ٹرمپ کی تقریبِ حلف برداری میں شرکت سے انکار کر چکے ہیں۔ ان کے علاوہ درجنوں ستارے اور زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والی شخصیات منتخب امریکی صدر کے منصب سنبھالنے کے تقریب کی دعوت کو مسترد کر چکے ہیں۔

آخر وہ کون سے وعدے ہیں جن پر ٹرمپ اپنی صدارت کے پہلے روز سے ہی عمل کرنا چاہتے ہیں ؟ گزشتہ ستمبر میںSalem Radio Network سے بات چیت میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ پہلے ہی روز فلسطینی تنظیم حماس اور لبنانی تنظیم حزب اللہ کے درمیان فرق دریافت کریں گے۔ پروگرام کے دوران ٹرمپ دونوں تنظیموں کے درمیان فرق سے ناواقف نظر آئے تاہم پھر انہوں نے میزبان سے مخاطب ہو کر کہا کہ " میں اپنا منصب سنبھالنے کے 24 گھنٹے کے اندر اس حوالے سے تم سے زیادہ جان کاری حاصل کر لوں گا"۔

ٹرمپ یہ وعدہ بھی کر چکے ہیں کہ وہ "پہلے ہی روز" ہیلتھ انشورنس کی منسوخی سے متعلق کانگریس کا مطالبہ پورا کریں گے۔ اس قانون کو موجودہ صدر اوباما نے 6 برس قبل اپنی ایک اہم ترین کامیابی کے طور پر لاگو کیا تھا اور یہ مختصراObamacare کے نام سے معروف ہے۔ انہوں نے شامی پناہ گزینوں کے حوالے سے اوباما کے احکامات کی منسوخی کا اغاز کرنے کا بھی وعدہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ وہ "پہلے روز سے ہی" غیر قانونی مہاجرین کو مجرم قرار دے کر ملک بدر کرنے کا ارادہ بھی رکھتے ہیں۔ ان افراد کی تعداد بیس لاکھ سے زیادہ ہے۔

دیوار.. اسکولوں اور بیرکوں میں ہتھیار

ایک اور وعدہ جس پر وہ "پہلے روز سے" عمل درامد شروع کرنے کا بار بار اعلان کر چکے ہیں وہ ہے میکسیکو کے ساتھ امریکی سرحد پر 3145 کلومیٹر طویل دیوار کی تعمیر ہے۔ اس پر کم از کم 25 ارب اور زیادہ سے زیادہ 100 ارب ڈالر تک خرچ ہوں گے۔ امریکی ٹی وی نیٹ ورک " سی این این" کے مطابق ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اس دیوار کے اخراجات بالواسطہ میکسیکو کو ہی ادا کرنا ہوں گے۔ ہوسکتا ہے اس سلسلے میں اس کی امریکا کے لیے برآمدات پر ٹیکس میں اضافہ کر دیا جائے یا پھر کوئی اور طریقہ اپنایا جائے۔

ٹرمپ یہ وعدہ بھی کر چکے ہیں کہ وہ "پہلے روز سے" ایسے اقدامات کریں گے جن کے ذریعے اسکولوں ، فوجی اڈوں اور دیگر علاقوں میں " ڈی ملٹرائزڈ زون" یا DZ کا خاتمہ کیا جائے۔ ان کے خیال میں ان مقامات پر یہ علاقے درحقیقت شرپسندوں کے لیے بڑی نعمت ہیں کیوں کہ دہشت گردوں کی جانب سے حملوں کی صورت میں ان مقامات پر دفاع کے لیے ہتھیار نہیں پائے جاتے۔

"حلف برداری "

ٹرمپ کی حلف برداری کی تقریب بیس جنوری بروز جمعہ منعقد ہو گی۔ اس سے ایک روز قبل ٹرمپ اپنے معاون کے ہم راہ "آرلنگٹن کے قومی قبرستان" میں پھول رکھیں گے۔ اس کے بعد لنکن کی یادگار تنصیب کے پاس ایک خیر مقدمی تقریب ہو گی۔ اگلے روز گرینچ کے وقت کے مطابق شام پانچ بجے ٹرمپ کے نائب کی حلف برداری ہو گی اور اس کے بعد ٹرمپ کی باری آئے گی۔

برطانوی اخبار ٹیلی گراف کے مطابق واشنگٹن مین کانگریس کے ہیڈ کوارٹر میں "کیپیٹل" بلڈنگ کے نزدیک ڈونلڈ ٹرمپ کھڑے ہو کر اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔ اس طرح وہ قانونی طور پر امریکا کے صدر بن جائیں گے جس کے بعد وہ تقریبا 20 منٹ کے دورانیے کا خطاب بھی کریں گے۔