.

امریکا کے نئے صدر کی حلف برادری میں کیا خاص ہونے والا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ دنیا کی سپر پاور کے 45 صدر کی حیثیت سے ۲۰ جنوری بروز جمعہ حلف اٹھائیں گے۔ سرکاری تقریب حلف برداری شایان شان طریقے سے منعقد کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار سنھبالنے کے بعد امریکا کی خارجہ پالیسی کیا ہو گی اور دنیا میں حالات کس طرح تبدیل ہوں گے۔ یہ تقریب اس کی خشت اول ثابت ہو گی۔ اس تقریب سے ڈونلڈ ٹرمپ سپر پاور کے صدر بن کر دنیا کی توجہ کا مرکز بن جائیں گے۔

امریکا میں ہر چار سال کے بعد نئے صدر کے چناؤ کے بعد حلف برداری کی تقریب منعقد ہوتی ہے۔ عموما صدر کی حلف برداری کی تقریب سرد ہواؤں اور بارش کی لپیٹ میں رہتی ہے مگر یہ سب کچھ کانگریس کی عمارت کے باہر ہوتا ہے۔ کانگریس کے اندر کا ماحول کافی گرم ہوتا ہے اور نئے صدر کے باضابطہ تقرر اور اقتدار کی منتقلی کے اس اہم موقعے کو پوری دنیا میں نئی تبدیلیوں کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔

تقریب حلف برادری میں سابق امریکی صدور، اہم عالمی شخصیات اور امریکا کے دوست ممالک کے سربراہان خصوصی طور پرشرکت کرتے ہیں۔ اس موقع پر روایتی امریکی موسیقی سے مہمانوں کا دل لبھایا جاتا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ امریکا کے 45 ویں صدر کے طور پر حلف اٹھائیں گے مگر صدر کی تقریب حلف برداری کے اعتبار سے یہ 58 ویں تقریب حلف برداری ہو گی کیونکہ بعض صدور دو بار امریکا کے صدر رہے ہیں۔

تقریب کا آغاز کب ہو گا؟

امریکی صدر کی حلف برداری کی تقریب گرینج کے معیاری وقت کے مطابق شام پانچ بجے [یعنی پاکستان کے شب دس بجے] شروع ہو گی۔ مگر ماضی میں اس نوعیت کی تقریبات وائیٹ ہاؤس میں مقامی وقت کے مطابق شام کے بجائے صبح کے وقت ہوا کرتی تھیں۔ یہ تقریبات واشنگٹن شہر میں متعدد مقامات پر منعقد ہوتی رہی ہیں۔ تقریب کے کئی حصے ہوتے ہیں۔ ان میں سے اہم حصہ صدر کا حلف اٹھانے والا ہوتا ہے جس میں صدر امریکا 35 الفاظ پر مشتمل دستوری حلف کی عبارت پڑھتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی حلف برداری کی تقریب کے لیے 10 ہزار مربع فٹ جگہ کیبنٹ ہاؤس[کیپیٹل ہل] کے باہر مختص کی گئی ہے۔

ماضی میں صدر کی حلف برداری کی بعض تقاریب وائٹ ہاؤس میں منعقد ہوتی رہی ہیں مگر اب نئی روایت یہ ہے کہ تقریب کانگریس کی گنبد نما عمارت کے باہر منعقد کی جائے۔

تقریب میں کون کون شرکت کرے گا؟

ڈونلڈ ٹرمپ کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کے لیے بہت حد تک چھان بین کی گئی ہے اور انتہائی چھان پھٹک کے بعد 1600 مہمانوں کو مدعو کیا گیا ہے۔ ان خاص مہمانوں میں سبکدوش ہونے والے صدر براک اوباما، چیئرمین سینٹ، سابق امریکی صدور، اہم سفارت کار، نئی کابینہ کے نامزد وزراء، ارکان کانگریس، امریکی ریاستوں کے گورنرز اور مسلح افواج کے سربراہان شامل ہوں گے۔

حلف برداری کی تقریب میں سابق صدر جارج ڈبلیو بش بھی شرکت کریں گے جن پرڈونلڈ ٹرمپ عراق کے معاملے میں جھوٹ بولنے کا الزام عاید کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ بل کلنٹن جنہیں ٹرمپ نے خواتین کے ساتھ امریکی تاریخ میں بدسلوکی کی علامت قرار دے چکے ہیں، شرکت کریں گے۔

البتہ شکست خوردہ صدارتی امیدوار ہیلری کلنٹن کی شرکت کا امکان کم ہے۔ سابق صدر جمی کارٹر عمر رسیدگی کے باوجود شرکت کریں گے جب کہ جارج بش سینیر کی شرکت ممکن نہیں ہو گی۔ جارج بش سینیر اور جمی کارٹر دونوں کی عمریں 92 برس ہیں۔

تقریب میں شریک ہونے والے مشاہیر

امریکا میں صدر کی تقریب حلف برداری کے موقع پراہم عالمی شخصیات کو بھی مدعو کیا جاتا ہے۔ مگر یہ تقریب موسیقاروں اور فن کاروں سے بھی خالی نہیں ہوتی۔ سنہ 2009ء صدر براک اوباما کی تقریب حلف برداری میں معروف موسیقارہ ’بیونسے‘ نے اوباما اور خاتون اول میشل اوباما کے ہمراہ رقص کا مظاہرہ کیا۔

اس بار ’American Got Talent‘ کی سپراسٹار جاکی ایوانکو امریکا کا قومی ترانہ اپنے مدھور آواز میں پیش کریں گی۔ ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ ان کے صدر منتخب ہونے کے بعد ایوانکو کے البم بڑی تعداد میں فروخت ہوئے ہیں۔

امریکا میں بیس جنوری کو ہونے والی حلف برداری کی تقریب میں ’آرکسٹرا بینڈ Mormon Tabernacle Choir خاص طور پر شرکت کرے گا۔ یہ بینڈ اس سے قبل چھ بار اس طرح کی تقریبات میں شرکت کرچکا ہے۔

اس بار تقریب حلف برداری میں ’ریڈیو سٹی روکٹز‘بینڈ کی طرف سے شرکت کی معذرت کی گئی ہے۔ تقریب میں ‘ایکس واکٹور‘ کی سپراسٹار انگریز موسیقارہ رببیکا فیرگوسن کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی مگر وہ بھی شریک نہیں ہوں گی۔

معروف موسیقارہ چارلوٹ چیرش کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اسے بھی ٹرمپ کی ٹیم نے حلف برداری کی تقریب میں شرکت کی دعوت دی ہے تاہم اس نے بھی شرکت سے انکار کیا ہے۔

تقریب کے روز کیا ہو گا؟

امریکا میں صدر کی حلف برداری کی تقریب کے روز 9 تاریخی روایات پرعمل کیا جاتا ہے۔ اس ضمن میں اہم روایات درج ذیل ہیں۔

صبح کی دعا

اس روایت کا آغاز آنجہانی صدر فرینکلین روز ولٹ کی سنہ 1933ء میں حلف برداری تقریب میں کیا گیا، اوباما، بش سینیر، بش جونیر، رونلڈ ریگن، ہیری ٹرومین اور روز ویلٹ سمیت کئی دوسرے صدور نے اس روایت پرعمل درآمد کیا۔ یہ تقریب شاہراہ وائٹ ہاؤس کی ایک طرف منعقد ہوتی ہے۔ ماضی میں اس تقریب میں اہم عیسائی پادری جن میں سینٹ جون شامل ہیں شرکت کرچکے ہیں۔

نو منتخب اور سبکدوش صدر کی ملاقات

وائیٹ ہاؤس میں اقتدار کا تبادلہ کرنے والے صدور کے درمیان مختصر ملاقات بھی حلف برداری کے روز منعقدہ تقریبات کی ایک اہم روایت ہے۔ سبکدوش اور نو منتخب صدر کے درمیان ملاقات دونوں کی کیپیٹل ہل کی جانب روانگی سے قبل ہوتی ہے۔ دونوں صدور ملاقات کے بعد ایک ساتھ ہی مرکزی تقریب کی طرف روانہ ہوتے ہیں۔

نائب صدر کی حلف برادری

نو منتخب امریکی صدر کی تقریب حلف برداری کے روز ہونے والی تقریبات میں ایک روایت نائب صدر کی حلف برداری بھی شامل ہے۔ نائب صدر کی حلف برداری کے موقع پر ہوائی فائرنگ سے اس استقبال کیا جاتا ہے۔

صدر کی حلف برداری

امریکا میں صدر کی حلف برداری تقریب کا اہم ترین حصہ اور روایت ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ اس روایت پرعمل کرتے ہوئے 35 الفاظ پر مشتمل دستوری حلف اٹھائیں گے۔ سابق صدر رونلڈ ریگن نے 1985ء اسی دستور پر حلف اٹھایا تھا۔ صدر باراک اوباما نے اپنی باری پر اگلے روز دوبارہ حلف اٹھایا تھا کیونکہ وہ اپنے لکھے مسودے میں غلطی کی وجہ سے بعض الفاظ چھوڑ گئے تھے۔

حلف برادری کے موقع پر خطاب

پانچویں روایت نو منتخب صدر کا حلف برداری کے بعد شرکاء سے خطاب ہے۔ سابق صدر جارج واشنگٹن نے انتہائی مختصر خطاب کیا۔ انہوں نے صرف 135 الفاظ کی تقریر کی تھی۔ اس کے بعد ولیم ہنری، ھیرسن کے 1841ء میں 8 ہزار 445 الفاظ پر مشتمل تقریر کی۔ نو منتخب صدور کی تقریب حلف برادری کے دوران یہ اب تک کی سب سے بڑا خطاب سمجھا جاتا ہے۔ البتہ سنہ1933ء میں صدر روز ویلٹ نے ایک جملے کی تقریر کی۔ انہوں نے کہا تھا کہ ‘ہمیں اپنے آپ کے خوف سے بڑھ کر کسی کا خوف نہیں‘

سنہ 1961ء میں صدر جون ایف کینڈی نے بھی مختصر خطاب کیا۔ ان کے الفاظ تھے’دوسروں سے مت پوچھیں کہ وہ آپ کے ملک کے ساتھ کیا کرسکتے ہیں۔ اپنے آپ سے پوچھیں کہ آپ اپنے ملک کے ساتھ کیا کرسکتے ہیں’۔

سبکدوش صدر کو الوداع

وائیٹ ہاؤس میں صدر کی تبدیلی کے روز حلف برداری کی تقریب کی روایات میں سبکدوش صدر کا الوداع بھی شامل ہے۔ اس موقع پر تمام شرکاء اور نو منتخب عہدیدار صد اوباما کو ’الوداع‘ کہیں گے۔ سب کی زبانوں پرایک ہی لفظ ہوگا’اوباما الوداع‘۔ اس کے بعد صدر اوباما روایت کے مطابق ہیلی کاپٹر پر سوار ہوکر رخصت ہوجائیں گے۔ سنہ 1977ء تک سبکدوش صدر الوداع ہونے کے بعد ریل گاڑی یا خصوصی کار کے ذریعے اپنی رہائش گاہ کی طرف لوٹ جاتے تھے۔

ظہرانے کا اہتمام

امریکا میں نومنتخب صدر کی تقریب حلف برداری شادی کی تقریب کی طرح ہوتی ہے۔ اگر تقریب صبح کے وقت شروع ہوگی تو ظہرانے کا اہتمام کیا جاتا ہے اور شام کو ہوگی تو عشایہ دیا جاتا ہے۔

صدر کو سلامی

یہ روایت صدر کے حلف اٹھانے کے بعد 8 ہزار فوجیوں کی جانب سے انہیں ایک جلوس کی شکل میں انہیں سلامی دی جاتی ہے۔ اس موقع پر شاہراہ پنسلوینیا سے مختلف امریکی اسکاؤٹس گروپس سے وابستہ اہلکار وائیٹ ہاؤس کی طرف مارچ کرتے ہیں۔ جمی کارٹراس موقع پر رسم توڑ کر خود بھی جلوس میں شامل ہوگئے تھے۔

شام کا استقبال

نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعزازمیں شام کی تقریب منعقد کی جائے گی۔ اس تقریب میں تمام شرکاء قومی لباس گلے میں سیاہ ٹائی اور سفید شرٹ کے ساتھ شرکت کریں گے۔ بل کلنٹن کے ساتھ اس تقریب میں 14 اہم شخصیات اور اوباما کے ساتھ 2009ء میں 10 شخصیات نے شرکت کی تاہم ڈونلڈ ٹرمپ کے ہمراہ آنے والوں کی تعداد کا تعین نہیں۔

تقریب کے بعد کیا ہو گا؟

حلف برداری کی تقریب سے قبل اور اس کے بعد کی بھی بعض دلچسپ روایات ہیں۔ جمعرات 19 جنوری کو آرلنگٹن قبرستان میں پھولوں کی پتیاں چڑھائیں گے۔ اس قبرستان میں امریکا میں ماضی میں ہونے والی خانہ جنگجیوں کے دوران مارے جانے والے مقتولین دفن ہیں۔ یہ قبرستان ورجینیا میں قائم ہے۔

تقریب کے اگلے روز 21 جنوری بہ روز ہفتہ نو منتخب صدر واشنگٹن میں نیشنل کیتھڈرل میں دعائیہ تقریب میں شرکت کریں گے۔

20 جنوری کی تاریخ کیوں؟

اگرچہ نو منتخب صدر کی حلف برداری کی تقریب کے لیے 20 جنوری کی تاریخ کی کوئی خاص وجہ نہیں مگراس کے باوجود امریکی دستور میں اس تاریخ کو مقدس درجہ حاصل ہے۔ گذشتہ ایک صدی سے یکے بعد دیگرے امریکا میں اقتدار ایک سے دوسرے صدر کو منتقل ہوتا چلا آیا ہے۔

شروع میں امریکا میں انتقال اقتدار کے لیے 4 مارچ کی تاریخ مقرر کی تھی۔ مگر بعد ازاں نو منتخب صدر کو زمام حکومت کو سمجھنے کی سہولت دینے کے لیے انہیں زیادہ سے زیادہ وقت دیا گیا تاکہ انتخاب کے بعد حلف اٹھانے تک کوئی بھی نو منتخب صدرحکومتی معاملہ اور پالیسیوں کے بارے میں اچھی طرح جان کاری حاصل کرسکے۔

امریکا میں 20 جنوری کی تاریخ 1933ء میں مقرر کی گئی۔ اسی عرصے میں امریکا میں نئی ٹیکنالوجی متعارف ہوئی اور ریلوے لائن بچھائی گئی۔

ٹرمپ کی آمد سے قبل اوباما کیا کریں گے؟

جانے والا صدر آنے والے صدر کے لیے ایک پیغام بھی چھوڑتا ہے۔ اوباما بھی رخصتی سے قبل اپنے جانشین ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے خصوصی پیغام چھوڑیں گے۔ جارج بش نے اوباما کے لیے جو پیغام چھوڑا تھا اس کے الفاظ تھے کہ ’میں نو منتخب صدر کی پیش آئند مہم میں کامیابی کا متمنی ہوں‘۔

سنہ 1993ء میں بش سینیر نے بیل کلنٹن کے لیے جو پیغام چھوڑا اس کے الفاظ تھے’میں اس ہم منصب تک پہنچنے پرنو منتخب صدر کے لیے نیک خواہشات کا متمنی ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ نئے صدر گذرے صدور کی طرح وحدت کی علامت رہیں گے‘۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ صدر اوباما اپنے جانشین کے لیے کیا خصوصی پیغام چھوڑتے ہیں۔