جوہری معاہدے پر دوبارہ مذاکرات کا کوئی جواز نہیں : ایرانی صدر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایرانی صدر حسن روحانی نے واضح کیا ہے کہ اگر امریکا کے منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ جوہری معاہدے پر ازسر نو مذاکرات کا مطالبہ کرتے ہیں تو ایران کی جانب سے عالمی طاقتوں سے دوبارہ ایسے مذاکرات کا کوئی امکان نہیں ہے۔

ایرانی صدر منگل کے روز تاریخی جوہری معاہدے پر عمل درآمد کی پہلی سالگرہ کے موقع پر تہران میں نیوز کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔انھوں نے کہا کہ ''جوہری معاہدہ طے ہوچکا ہے۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اس کی توثیق کرچکی ہے۔اب یہ ایک بین الاقوامی دستاویز ہے۔یہ ایک کثیرالجہت معاہدہ ہے اور اب اس پر دوبارہ مذاکرات کا کوئی جواز نہیں ہے''۔

ڈونلڈ ٹرمپ اپنی انتخابی مہم کے دوران عالمی طاقتوں کے ایران کے ساتھ طے شدہ جوہری معاہدے کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں اور انھوں نے ایران کے جوہری تنازعے پر نئے مذاکرات کا بھی مطالبہ کیا تھالیکن منتخب ہونے کے بعد سے انھوں نے جوہری معاہدے کی تنسیخ کے حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔تاہم ان کے نامزد وزیرخارجہ ریکس ٹیلرسن جوہری معاہدے پر مکمل نظرثانی کا مطالبہ کرچکے ہیں۔

حسن روحانی نے کہا کہ ''امریکا کے منتخب صدر مسٹر ٹرمپ مختلف بیانات جاری کرچکے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ جوہری معاہدے سے مطمئن نہیں ہیں اور یہ کہ یہ کوئی اچھا معاہدہ نہیں ہے یا یہ ایک بدترین معاہدہ ہے''۔

انھوں نے کہا کہ ''اس طرح کی باتیں انتخابی نعرے ہی ہوتی ہیں۔میرا نہیں خیال کہ جب وہ وائٹ ہاؤس میں داخل ہوں گے تو کچھ ہوگا۔یہ کوئی دوطرفہ معاہدہ نہیں ہے کہ وہ اپنی پسند یا ناپسند کی بنیاد پر اس کے بارے میں کوئی فیصلہ کرسکتے ہیں''۔

واضح رہے کہ ایران اور چھے عالمی طاقتوں امریکا ،برطانیہ ،چین ،فرانس ،روس اور جرمنی کے درمیان طویل مذاکرات کے بعد جولائی 2015ء میں جوہری معاہدہ طے پایا تھا اور اس پر جنوری 2016ء سے عمل درآمد کیا جارہا ہے۔

یورپی یونین اور برطانیہ کے حکام نے اسی ہفتے کہا ہے کہ وہ جوہری معاہدے کے لیے دوبارہ مذاکرات کی حمایت نہیں کریں گے۔اس جوہری معاہدے کے تحت ایران کے جوہری پروگرام پر سخت قدغنیں عاید کی گئی تھیں اور اس کے بدل میں اس پر عاید عالمی پابندیوں کا خاتمہ کردیا گیا تھا۔

ویانا میں قائم جوہری توانائی کا عالمی ادارہ (آئی اے ای اے) اس جوہری معاہدے کی نگرانی کررہا ہے۔اس میں کہا گیا ہے کہ ایران کم درجے کی افزودہ یورینیم رکھ سکتا ہے لیکن اس کی مقدار کسی بھی وقت تین سو کلوگرام سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔یہ مقدار ایک جوہری ہتھیار کی تیاری کے لیے کافی نہیں ہے۔اگر اتنی مقدار میں یورینیم کو ہتھیار کی تیاری کے لیے درکار سطح تک افزودہ بھی کردیا جائے تو پھر بھی یہ جوہری بم کے لیے کافی نہیں ہوگی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں