روس مداخلت نہ کرتا تو دمشق کا 20،15 روز میں سقوط ہوجاتا: لاروف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

روس اگر شام میں فوجی مداخلت نہ کرتا تو دمشق کا دو سے تین ہفتوں میں سقوط ہوجاتا اور دہشت گرد اس پر قابض ہوجاتے۔

یہ بات روسی وزیرخارجہ سرگئی لاروف نے منگل کے روز ایک نیوز کانفرنس میں کہی ہے۔انھوں نے کہا ہے کہ ان کے ملک نے جس وقت شامی صدر بشارالاسد کی حمایت میں مداخلت کی تو دارالحکومت دمشق کا پندرہ سے بیس روز میں سقوط ہونے والا تھا اور وہ دہشت گردوں کے ہاتھ جانے والا تھا۔

انھوں نے کہا ہے کہ روس شام کی حمایت جاری رکھے گا کیونکہ ان کے پاس ایسی اطلاع ہے کہ بعض یورپی ممالک شام امن مذاکرات کو سبوتاژ کرنے پر غور کررہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ یورپی ممالک آستانہ مذاکرات کے حوالے سے خود کو الگ تھلگ محسوس کررہے ہیں۔انھوں نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ یہ ممالک مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش نہیں کریں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں