ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو کو ''ازکار رفتہ'' نہیں کہا: مشیر

میڈیا نے نومنتخب صدر کا نیٹو سے متعلق بیان سیاق وسباق سے ہٹ کر پیش کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

امریکا کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم کے ایک مشیر نے واضح کیا ہے کہ ان کے معاہدہ شمالی اوقیانوس کی تنظیم ( نیٹو) اور یورپی یونین سے متعلق بیانات کو سیاق وسباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کے روز ایک بیان میں نیٹو کو ''ازکار رفتہ'' قرار دیا تھا اور ان کے اس بیان پر یورپی لیڈر ہکا بکا رہ گئے تھے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر ولید فارس نے العربیہ نیوز چینل کے سسٹر چینل الحدث سے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ''نومنتخب صدر کے بیانات کی سیاق وسباق سے ہٹ کر تشہیر کی گئی ہے۔نیٹو سے متعلق ان کا نقطہ نظر وہ نہیں ہے جو میڈیا میں پیش کیا گیا ہے۔حتیٰ کہ انھوں نے ٹویٹر پر جو کچھ کہا ہے ،اس کو بھی ملحوظ نہیں رکھا گیا ہے۔وہ نیٹو کا خاتمہ نہیں بلکہ اس میں اصلاحات چاہتے ہیں کیونکہ اب اس اتحاد کو انتہا پسندی اور دہشت گردی سے جنگ درپیش ہے''۔

انھوں نے کہا کہ ''نئی امریکی انتظامیہ نیٹو کے کمانڈروں سے اس سلسلےمیں بات چیت کرے گی''۔

ولید فارس نے مشرق وسطیٰ کے خطے کے امور کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نئی امریکی انتظامیہ کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ایران کے امریکا اور اس کے اتحادیوں کے بارے میں تزویراتی ارادے ناقابل قبول ہیں۔
انھوں نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ''بعض چیزوں پر ہمیں سمجھوتوں کی ضرورت ہے۔مثال کے طور پر تہران کی خطے کے بعض ممالک میں فوجی مداخلت کا معاملہ بھی کسی سمجھوتے کا متقاضی ہے''۔

شام کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے صدارتی انتخابات کے لیے مہم کے دوران میں اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے شام اسٹافن ڈی مستورا سے ملاقات کی تھی اور انھوں نے مذاکرات کے عمل کے بارے میں آگاہ کیا تھا۔

ولید فارس نے الحدث کو مزید بتایا کہ ''ہم نے شامی حزب اختلاف کے ایک وفد سے بھی ملاقات کی تھی۔ٹرمپ نے اس موقع پر کہا تھا کہ وہ ایک جنگ کے خاتمے کے لیے ایک اور جنگ نہیں چھیڑنا چاہتے ہیں بلکہ وہ تنازعے کے تصفیے کے لیے مذاکرات چاہتے ہیں۔صدر منتخب ہونے کے بعد متعلقہ اداروں نے انھیں شام کی تازہ صورت حال کے بارے میں آگاہ کرنا شروع کردیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ سبکدوش ہونے والے امریکی صدر براک اوباما کی انتظامیہ نے خلیج کی حمایت کو کھو دیا ہے جبکہ نئی انتظامیہ نے خلیج اور ٹرمپ کے درمیان حائل خلیج کو پاٹنے کے لیے پلوں کی تعمیر شروع کردی ہے۔اب کچھ امور ایسے ہیں جنھیں حل کرنے کی ضرورت ہے ،ان کا تعلق ایران اور یمن سے ہے۔اس کے علاوہ عراق اور شام سے متعلق مختلف منظرناموں سے بھی ان امور کا تعلق ہے''۔

مقبول خبریں اہم خبریں