یورپی یونین اپنا سفارت خانہ بیت المقدس منتقل نہیں کرے گی:موگرینی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی ہائی کمشنر فیڈریکا موگرینی نے کہا ہے کہ یورپی یونین فلسطین سے متعلق سلامتی کونسل کی قرارداد کی پاسداری کرتے ہوئے اپنا سفارت خانہ بیت المقدس منتقل نہیں کرے گی۔

انہوں نے یہ بات ایک ایسے وقت میں کی ہے جب دوسری جانب امریکا کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ تل ابیب میں قائم اپنا سفارت خانہ بیت المقدس منتقل کرنے کا متنازع اعلان کرچکے ہیں۔

یورپی یونین نےامریکا کو ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکی سفارت خانہ بیت المقدس منتقل کیے جانے کے پلان پر خبردار کیا ہے اور کہا ہے کہ ایسا کوئی بھی قدم اٹھانے سے عرب دنیا کے ساتھ مغرب کے تعلقات کشیدہ ہوسکتے ہیں۔

برسلز میں یورپی مندوبین کے ایک اجلاس کے دوران صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے مسز موگرینی نے کہا کہ ’ہم سب کے لیے زیادہ بہتر اور مناسب یہ ہے کہ ہم میں سے کوئی بھی یک طرفہ اقدام سے گریز کرے۔ اگر یک طرفہ اقدامات کیے جاتے ہیں تو اس کے نتیجے میں آپ کو عالمی رائےعامہ کی سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے‘۔

انہوں نے پیرس کی میزبانی میں گذشتہ اتوار کو ہونے والی عالمی امن کانفرنس کی تائید کی اور کہا کہ عرب، اسرائیل تنازع کےحل کے لیے پیرس کانفرنس ایک بہتر اقدام ہے جس میں فریقین پر یک طرفہ اقدمات سے گریز اور تنازع کے دو ریاستی حل کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

ادھر اسی سیاق میں ’العربیہ‘ کو اپنے ذریعےسے اطلاعات ملی ہیں کہ پیرس اعلامیے میں ایک عالمی گروپ تشکیل دینے کے بعد نئی امریکی انتظامیہ کے پاس بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ادھر ایک دوسرے ذرائع کاکہنا ہے کہ کل سوموار کے روز یورپی یونین کے اجلاس کے دوران پیرس کانفرنس کی حمایت میں تیار کردہ مجوزہ بیان تین ملکوں برطانیہ، ہنگری اور لتھوانیا کی مداخلت کے بعد رکوا دیا ہے۔ یہ تینوں ممالک نئی امریکی انتظامیہ کی طرف سے پیرس کانفرنس پر رد عمل کے منتظر ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں