.

استنبول کا قصاب ترکی آمد سے قبل ایران اور پاکستان میں کیا کرتا رہا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آخرکار طویل تگ ودو کےبعد ترک پولیس نے استنبول میں سال نو کے جشن کے لیے ایک نائیٹ کلب میں برپا کردہ تقریب میں 39 افراد کو اندھا دھند گولیاں مار کر قتل کرنے میں ملوث دہشت گرد کو پکڑ لیا۔

فارسی سمیت پانچ زبانوں پرعبور

ترک اخبار ’ملیت‘ نے منگل کے روز اپنی اشاعت میں ایک رپورٹ شائع کی جس میں استنبول کے رینا ہوٹل میں سال نو کے موقع پر لوگوں کے ایک ہجوم پرگولیاں برسانے میں ملوث ازبک دہشت گر کے بارے میں حیران کن تفصیلات بیان کی ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ استنبول کے قصاب کے نام سے مشہور ہونے والےشدت پسند کانام عبدالقادر مشربوف المعروف ابو محمد الخراسانی ہے جو 1983ء کو ازبکستان میں پیدا ہوا۔ خرسانی عربی، روسی، ازبک ، چینی اور فارسی زبان کا ماہر سمجھا جاتا ہے۔ بعض رپورٹس کے مطابق ابو محمد الخراسانی کے لقب سے مشہور شدت پسند کا تعلق ازبکستان میں تاجک اقلیت سے ہے۔ یوں فارسی اس کی مادی زبان تھی۔ مگر اس نے ساتھ ساتھ چینی، عربی، ازبک اور روسی زبان بھی سیکھی۔

شد پسند کےآبائی شہر سمر قند اور بخارا میں بھی ازبک، تاجکی اور فارسی زبانیں بولی جاتی ہیں۔

ترکی داخلے سے قبل پاکستان، ایران اور افغانستان میں قیام

ترک اخبار ملیت کے مطابق استنبول کے سفاح نے ترکی آنے سے قبل کئی دوسرے ملکوں میں قیام کیا جہاں اس نے عسکری تربیت حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ مختلف دیگر سرگرمیوں میں بھی حصہ لیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق عبدالقادر مشربوف افغانستان میں دو سال تک رہا جہاں اس نے عسکری تربیت حاصل کی۔ اس نے کچھ عرصہ پاکستان میں بھی گذارا، پاکستان کےبعد وہ ایران داخل ہوا جہاں ایرانی پولیس نے اسے گرفتار کیا اور سخت ترین حراست میں رکھنے کےباوجود وہ ایران سے فرار میں کامیاب ہوگیا۔

ایران میں گرفتاری کی وجوہات سامنے نہیں آسکیں اور کسی اخبار یا ٹی وی چینل نے اس پر کوئی روشنی نہیں ڈالی۔ یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ آیا مشربوف ایران میں انتہائی سیکیورٹی والی جیلوں سے کیسے نکلا۔ اس حوالے سے کئی حساس سوالا سامنے آتے ہیں اور معاملہ زیادہ پراسرار ہوتا چلا جاتا ہے۔ بہر حال مشربوف کچھ عرصہ ایران میں پراسرار انداز میں گرفتار رہنے کے بعد پراسرار طریقے سے جیل سے فرار ہوا اور ترکی داخل ہوگیا۔ کیا یہ سب کچھ کسی مربوط منصوبہ بندی کا تسلسل تھا؟ اس کےبارے میں شاید مستقبل میں کوئی معلومات سامنے آسکیں۔ ترکی آنے کے بعد اس نے اپنی بیوی اور دو بچوں کے ہمراہ قونیہ شہر میں سکونت اختیار کی۔

ترک آمد کے بعد 16 دسمبر کو وہ قونیہ سے استنبول روانہ ہوا۔ یکم جنوری کی رات اس نے استنبول کے رینا ہوٹل میں ایک نائیٹ کلب میں تقریب پر فائرنگ کرکے چالیس کے قریب افراد کو ہلاک کیا اور غائب ہوگیا۔ ترک پولیس اس کی مسلسل تلاش اور تعاقب میں مصروف رہی اور بالآخر 16 جنوری کو استنبول میں بشیکطاش کالونی سے حراست میں لے لیا گیا۔

ترک ذرائع ابلاغ کے مطابق عبدالقادر مشربوف نے گرفتاری کے بعد دوران تفتیش ازبک شہریت کا اعتراف کرنے کے ساتھ افغانستان سے عسکری تربیت حاصل کرنے کا بھی اعتراف کیا ہے۔

استنبول کے قائم مقام گورنر واثب شاہین نے بھی عبدالقادر مشربوف کے اس بیان کی تصدیق کی ہے۔ واثب شاہین نے بتایا کہ مجرم نے اعتراف جرم کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ دسمبر کے آخر میں اس کارروائی کی منصوبہ بندی کرنے کے لیے استنبول آیا تھا۔

ایران اور داعش

استنبول میں عام شہریوں کے مجرمانہ قتل کی وحشیانہ واردات کے قونیہ سے استنبول آمد اور عبدالقادر مشربوف سے ابو محمد الخراسانی کا لقب اختیار کرنے تک تہہ در تہہ کئی اور داستانیں اس کےساتھ وابستہ ہیں۔ ایران میں پراسرار گرفتاری اور وہاں سے فرار بذات خود ایک نہ سمجھ آنے والی داستان ہے جس پرغور کرتے ہوئے ذہن ایک بار پھر داعش اور تہران کے باہمی تعاون کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ نے 15 اکتوبر 2015ء کو ایران کے ایک مںحرف سفارت کار کے بیانات پرمبنی ایک مفصل رپورٹ شائع کی تھی جس میں ایران اور داعش کےدرمیان خفیہ مراسم کی تفصیلات بیان کی گئی تھیں۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ایران کس طرح داعش کو اسلحہ اور جنگی سازو سامان کے ساتھ عسکری تربیت میں معاونت کرتا چلا آیا ہے۔

جاپان میں ایران کے سابق سفارت کار ابو الفضل اسلامی نے بتایا تھا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے داعش کے وجود سے بہت حد تک استفادہ کیا۔ اسلامی نے کہا کہ ایران نے داعش کے خلاف کارروائی کی آڑ میں عراق اور شام میں اپنی مداخلت کو بڑھایا اور اندر خانہ ایران داعش کو اسلحہ اور گولہ بارود پہنچاتا رہا۔