.

یو اے ای : دہشت گردی کے جُرم میں تین افراد کو قید کی سزائیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات کی ایک عدالت نے تین افراد کو ایک دہشت گرد تنظیم سے تعلق کے الزام مِیں قصور وار قرار دے کر پانچ سال تک قید کی سزائیں سنائی ہیں۔

یو اے ای کی سرکاری خبررساں ایجنسی وام کی رپورٹ کے مطابق ابو ظبی کی وفاقی عدالت عظمیٰ نے دو اماراتی شہریوں کو ایک سے پانچ سال تک جیل کی سزا کا حکم دیا ہے۔

تیسرے مدعا علیہ کا ایک عرب ملک سے تعلق ہے لیکن اس کے ملک کا نام ظاہر نہیں کیا گیا ہے۔اس کو عدالت نے تین سال قید کا حکم دیا ہے اور یہ سزا پوری ہونے کے بعد اس شخص کو ملک بدر کردیا جائے گا۔وام نے عدالتی فیصلے کی مزید تفصیل نہیں بتائی ہے اور نہ یہ بتایا ہے کہ ان تینوں کا کس مبینہ دہشت گرد تنظیم سے تعلق تھا۔

ایک نیوز ویب سائٹ 24 ڈاٹ اے ای نے یہ اطلاع دی ہے کہ ان تینوں مشتبہ افراد نے شام میں ماضی میں القاعدہ سے وابستہ تنظیم النصرہ محاذ کے لیے متحدہ عرب امارات میں دہشت گردی کا ایک سیل تشکیل دیا تھا۔النصرہ محاذ نے گذشتہ سال القاعدہ سے ناتا توڑ لیا تھا اور اپنا نام تبدیل کرکے فتح الشام محاذ رکھ لیا تھا۔اس ویب سائٹ کا کہنا ہے کہ عرب مدعا علیہ فلسطینی ہے۔

متحدہ عرب امارات امریکا کی قیادت میں داعش مخالف اتحاد میں شامل ہے اور اس کے لڑاکا طیارے ستمبر 2014ء سے شام میں داعش کے ٹھکانوں پر بمباری کررہے ہیں۔یو اے ای نے اسلام پسندوں کے حوالے سے سخت موقف اختیار کررکھا ہے اور گذشتہ تین سال کے دوران میں اخوان المسلمون، القاعدہ یا ان سے وابستہ گروپوں سے تعلق کے الزام میں بیسیوں افراد کو لمبی مدت کی قید اور جرمانے کی سزائیں سنائی جاچکی ہیں۔