.

اٹلی کے وسطی علاقے میں ایک گھنٹے میں تین شدید زلزلے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اٹلی کے وسطی علاقے میں بدھ کے روز ایک گھنٹے کے وقفے میں تین شدید زلزلے آئے ہیں۔ زلزلے کے جھٹکے دارالحکومت روم میں بھی محسوس کیے گئے ہیں۔

فوری طور پر ان زلزلوں سے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔البتہ روم میں سب وے کو پیشگی حفاظتی اقدام کے تحت بند کردیا گیا ہے اور اسکولوں نے والدین سے بچوں کو جلد گھروں کو لے جانے کے لیے کہہ دیا ہے۔

امریکا کے جیالوجیکل سروے کے مطابق مقامی وقت کے مطابق صبح 10:25 (0925 جی ایم ٹی) پر وسطی قصبے اماٹرایس کے شمال میں واقع علاقے میں پہلے زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے تھے۔ریختر اسکیل پر اس کی شدت 5.3 تھی۔ اس کے 50 منٹ کے بعد اسی علاقے میں 5.7 کی شدت کا دوسرا زلزلہ آیا اور اس کے 10 منٹ کے بعد تیسرا زلزلہ آیا ہے۔ اس کی بھی ریختر اسکیل پر شدت 5.3 تھی۔

ان تینوں شدید زلزلوں کے مابعد کافی دیر تک ہلکے جھٹکے محسوس کیے جاتے رہے ہیں۔جس علاقے میں یہ زلزلے آئے ہیں،وہاں گذشتہ ایک ہفتے سے شدید برفباری ہورہی ہے اور بعض علاقوں میں ڈیڑھ میٹر تک برف پڑ چکی ہے جس سے ٹرانسپورٹ کا نظام درہم برہم ہوکر رہ گیا ہے۔

یاد رہے کہ گذشتہ سال اٹلی کے اسی وسطی علاقے میں تباہ کن زلزلے کے نتیجے میں تین سو افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوگئے تھے۔ریختر اسکیل پر اس زلزلے کی شدت 6 تھی اور اس کے جھٹکے روم سمیت اٹلی کے تمام وسطی علاقوں میں محسوس کیے گئے تھے۔

تب زلزلے سے سب سے زیادہ ریٹی کے نزدیک واقع دو قصبے اماٹرایس اور آکامولی متاثر ہوئے تھے۔یہ دونوں قصبے روم سے شمال مشرق میں قریباً ایک سو کلومیٹر دور واقع ہیں اور آج آنے والے زلزلوں کا مرکز بھی ان دونوں قصبوں کے نزدیک واقع تھا۔