.

سعودی وژن 2030 : سرمایہ کاری اور نج کاری پر توجہ مرکوز ہوگی

عالمی اقتصادی فورم میں سعودی عرب کی معیشت پر تین وزرأ اور ماہرین کا اظہار خیال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے وزیر توانائی خالد الفالح نے کہا ہے کہ مملکت کے وژن 2030 کے مقاصد واہداف کے حصول میں سرکاری شعبوں میں سرمایہ کاری اور ان کی نج کاری ترجیحی عوامل ہیں۔ان کے علاوہ مملکت کی اقتصادی ترقی میں نوجوان آبادی اور خواتین کو نمایاں اہمیت حاصل ہے۔ترقی کے عمل میں ان کی شمولیت کے لیے حوصلہ افزائی کی جائے گی۔

وہ سوئٹزر لینڈ کے شہر ڈیووس میں منعقدہ عالمی اقتصادی فورم میں جمعرات کے روز سعودی عرب کے اصلاحات کے پروگرام پر ہونے والے پینل میں گفتگو کررہے تھے۔اس پینل کے میزبان عالمی اقتصادی فورم کے مینجنگ ڈائریکٹر فلپ روسلر تھے۔

اس میں وزیر توانائی کے علاوہ سعودی عرب کے وزیرخزانہ اور تجارت نے اظہار خیال کیا۔بلیک راک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر لارنس ڈی فنک اور ڈاؤ کیمیکل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اینڈریو این لیوریس نے بھی سعودی معیشت کے مختلف پہلوؤں کے بارے میں گفتگو کی ہے۔

سعودی عرب کے تینوں وزرأ نے معیشت کو حکومت کے کنٹرول سے آزاد کرنے اور اس کو منڈی کی ضروریات کے مطابق بنانے کے حوالے سے اظہار خیال کیا۔

وزیر توانائی خالد الفالح نے سعودی معیشت اور وژن 2030 کے نمایاں خدوخال بیان کرتے ہوئے کہا کہ اصلاحات کے نتیجے میں ایک مختلف سعودی عرب ظہور پذیر ہوگا اور برسرزمین تو یہ عمل پہلے ہی رونما ہورہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’’ہم سعودی عرب کو ایک شائستہ اور نرم جگہ بنانے کے لیے کام کررہے ہیں۔اس مقصد کے حصول کے لیے رواداری کو بنیادی اہمیت حاصل ہے‘‘۔

احتساب اور شفافیت

وزیر خزانہ محمد الجدعان نے پینل میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب نے اپنے معاملات میں زیادہ قابل احتساب اور شفاف ہونے کا عزم کررکھا ہے۔وہ اپنے بہت سے سیکٹرز کو نجی شعبے کے حوالہ کررہا ہے اور ان میں تنوع لا رہا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ہماری قیادت کی جانب سے تمام وزارتوں کو اپنے اہداف کے حصول کے عمل میں شفافیت اور احتساب اور افسر شاہی کو محدود کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

ڈاؤ کیمیکل کے سی ای او اینڈریو این لیوریس نے اس موقع پر کہا کہ وہ گذشتہ پندرہ سال سے سعودی عرب جارہے ہیں لیکن اس دوران میں ان کے لیے شفافیت کبھی کوئی مسئلہ نہیں رہی ہے۔

انھوں نے کہا:’’میں اس امر کی تصدیق کرسکتا ہوں کہ اگر ہم امریکا میں اپنے تجربے کا سعودی عرب سے موازنہ کریں تو سعودی مملکت میں مکمل شفافیت ہے۔یہ اس سے بھی واضح ہے کہ ہمارے اس ملک سے اربوں ڈالرز کے سودے ہوتے ہیں‘‘۔

سعودی وزرأ کا کہنا تھا کہ وژن 2030 کے اہداف کے حصول کے لیے نجی شعبے پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔ سرکاری اور نجی شعبے کی شراکت سے انفرا اسٹرکچر ، صحت عامہ اور تعلیم کے شعبوں میں متعدد منصوبے شروع کیے جائیں گے اور ان کا مستقبل قریب میں اعلان کردیا جائے گا۔