.

لیبیا : امریکا کے فضائی حملوں میں داعش کے متعدد جنگجو ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے بی 2 بمبار طیاروں اور بغیر پائیلٹ ڈرون نے لیبیا کے وسطی شہر سرت کے نزدیک داعش کے دو ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے ہیں جن کے نتیجے میں متعدد جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں۔

امریکا نے یہ فضائی حملے ساحلی شہر سرت میں اپنی فوجی کارروائیوں کے خاتمے کے ایک ماہ بعد کیے ہیں۔امریکی لڑاکا طیاروں نے اس سے پہلے سرت اور اس کے نواح میں داعش کے اہداف پر کم سے کم پانچ سو فضائی حملے کیے تھے اور ان میں داعش کی کمر توڑ دی گئی تھی۔

ایک امریکی عہدہ دار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ داعش کے جنگجو ہاتھوں میں ہتھیار تھامے اور جیکٹیں پہنے نظر آئے تھے۔ان کے پاس مارٹر گولے بھی تھے اور فوجی پریڈ کی شکل میں کھڑے تھے۔

فضائی حملوں میں ہدف بننے والے دونوں کیمپ سرت سے جنوب مغرب میں پینتالیس کلومیٹر دور واقع ہیں۔اس عہدہ دار کا مزید کہنا تھا کہ بمباری میں کوئی شہری ہلاک نہیں ہوا اور نہ وہاں کوئی عورت یا بچے موجود تھے۔

امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان کے ترجمان پیٹر کُک نے کہا ہے کہ داعش کے جن جنگجوؤں کو ہدف بنایا گیا ہے ،وہ سرت سے راہ فرار اختیار کرکے ان کیمپوں میں رہ رہے تھے ۔وہ لیبیا ، خطے اور امریکا کے مفادات کے لیے خطرہ تھے۔مسٹر کُک کا کہنا تھا کہ صدر براک اوباما نے ان حملوں کی منظوری دی تھی اور یہ بظاہر کامیاب رہے ہیں۔

امریکا نے اگست 2016 میں اقوام متحدہ کی ثالثی اور حمایت سے قائم ہونے والی لیبیا کی صدارتی کونسل کے سربراہ فائز السراج کی دعوت پر شمال میں واقع شہر سرت میں داعش کے ٹھکانوں پر بمباری کا آغاز کیا تھا۔

سابق مطلق العنان صدر معمر قذافی کے آبائی شہر سرت میں لیبیا کی قومی حکومت کے تحت فورسز نے گذشتہ سال مئی میں داعش کے خلاف جنگ شروع کی تھی اور شدید لڑائی کے بعد چند ماہ میں انھیں نکال باہر کیا تھا۔ داعش نے 2015 میں اس شہر کے بیشتر علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا۔

واضح رہے کہ گذشتہ سال کے اوائل میں امریکی حکام نے بتایا تھا کہ لیبیا میں داعش کے قریباً چھے ہزار مزاحمت کار موجود ہیں۔ان میں سے ایک معقول تعداد شام سے لیبیا لوٹی تھی۔امریکی حکام کے مطابق گذشتہ مہینوں کے دوران میں لیبیا میں داعش کی تعداد میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔اس گروپ کے جنگجو اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ حکومت اور مقامی ملیشیاؤں کے دباؤ میں آنے کے بعد اب راہ فرار اختیار کررہے ہیں اور ملک کے دور دراز علاقوں میں کمین گاہوں میں چھپنے کی کوشش کررہے ہیں۔