.

ترکی : "صدر کے اختیارات" کا قانون ریفرنڈم کی جانب گامزن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کی پارلیمنٹ نے آئین میں ترمیم سے متعلق ایک بِل کو منظور کر لیا ہے جس کا مقصد صدر رجب طیب ایردوآن کے اختیارات میں اضافہ کرنا ہے۔ اس طرح اب اس بل کو عوامی ریفرنڈم کے لیے پیش کرنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

پارلیمنٹ میں مذکورہ بِل کے حق میں 339 ووٹ آئے جو اسے ریفرنڈم کے طور پر پیش کرنے کے لیے مطلوبہ تعداد سے 9 ووٹ زیادہ ہیں۔

پارلیمنٹ کے اجلاس کے بعد ترک وزیراعظم بن علي يلدرم کا کہنا تھا کہ " ہمارے عوام اس موضوع کے حوالے سے آخری بات کریں گے۔ ان کا فیصلہ حتمی ہوگا"۔

نئی ترمیم کے ذریعے صدر کو وزراء کے تقرر اور برطرفی کا اختیار حاصل ہوجائے گا جب کہ ترکی کی تاریخ میں پہلی مرتبہ وزیر اعظم کا منصب ختم کر دیا جائے گا۔

اس منصب کا خاتمہ 1923 میں مصطفی کمال اتاترک کے ہاتھوں ترکی کی سیکولر جمہوریہ کی تاسیس کے بعد اپنی نوعیت کا پہلا اقدام ہوگا۔

میڈیا رپورٹوں کے مطابق اصلاحات کے حامی موجودہ وزیراعظم بن یلدرم اپنے عہدے کے ختم کر دیے جانے کے بعد نئے صدارتی نظام میں ملک کے صدر کے نائب مقرر ہوں گے۔