.

امریکا کے ساحل کے مقابل برطانیہ کا نیوکلیئر میزائل تجربہ ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانوی اخبار "سنڈے ٹائمز" کے مطابق گزشتہ برس جون میں فلوریڈا کے ساحل کے مقابل آبدوز سے برطانیہ کے ٹرائیڈنٹ ساخت کے ایک بغیر اسلحے والے نیوکلیئر میزائل کا تجربہ ناکام ہوگیا۔

اخبار نے بحریہ کے ایک سینئر اہل کار کے حوالے سے بتایا کہ مذکورہ میزائل غالبا غلط سمت اختیار کرنے کے سبب امریکا کے خشکی کے علاقے کی جانب چلا گیا۔ برطانیہ کی جانب سے 4 سالوں میں یہ پہلا نیوکلیئر میزائل تجربہ تھا جو گزشتہ برس ٹریزا مے کے وزیراعظم بننے سے کچھ عرصہ قبل عمل میں آیا۔

اخبار کے مطابق مے نے جولائی میں بطور وزیراعظم اپنے پہلے خطاب میں پارلیمنٹ کو ٹرائڈنٹ نوعیت کی نئی آبدوزوں پر 40 ارب پاؤنڈ کے اخراجات کے حوالے سے قائل کیا مگر انہوں نے میزائل کے ناکام تجربے کا کوئی ذکر نہیں کیا۔

برطانوی پارلیمنٹ جس نے 2007 میں ابتدائی طور پر مزاحمتی نظام کی تبدیلی کی منظوری دی تھی.. اس نے گزشتہ برس 4 آبدوزوں کی تیاری کے حق میں ووٹ دیا تاکہ برطانوی بحریہ کے سمندر میں گشت کے دوران مسلسل طور پر نیوکلیئر ہتھیار کی موجودگی کو یقینی بنایا جا سکے۔

اخبار نے بتایا کہ رواں صدی کے دوران برطانوی آبدوزوں کے ذریعے صرف 5 مرتبہ ٹرائڈنٹ میزائلوں کا تجربہ کیا گیا اس لیے کہ ان میں ہر ایک میزائل کی لاگت 1.7 کروڑ پاؤنڈ (2.1 کروڑ ڈالر) ہے۔

وزیراعظم ٹریزا مے کے دفتر اور برطانوی وزارت دفاع کے مشترکہ بیان میں کہا گیا تھا کہ "جون میں شاہی بحریہ نے بغیر اسلحے والے نیوکلیئر میزائل ٹرائڈنٹ کا معمول کا تجربہ کیا جس کا مقصد HMS Vengeance آبدوز اور اس کے عملے کی کارکردگی کی تصدیق کرنا تھا"۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ " مذکورہ آبدوز اور اس کا عملہ اس تجربے اور تصدیق کی کارروائی میں کامیاب رہا جس کے بعد Vengeance کو دوبارہ سے آپریشن میں واپس آنے کی اجازت دے دی گئی۔ ہمیں اپنے خود مختار نیوکلیئر مزاحمتی نظام پر پورا اعتماد ہے اور قومی سلامتی سے متعلق واضح وجوہات کی بنا پر ہم آبدوزوں کے حوالے سے دیگر تفصیلات پیش نہیں کر سکتے"۔