.

یمن : ڈرون حملوں میں القاعدہ کے چار جنگجو ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے وسطی علاقے میں دو الگ الگ ڈرون حملوں میں القاعدہ کے چار مشتبہ ارکان ہلاک ہوگئے ہیں۔

یمن کے ایک سکیورٹی ذریعے نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ یہ ڈرون حملے ممکنہ طور پر امریکی فورسز نے کیے ہیں۔ ایک بغیر پائیلٹ جاسوس طیارے نے صوبے البیضا کے علاقے سوامعہ میں القاعدہ کے جنگجوؤں کی ایک گاڑی کو میزائل سے نشانہ بنایا ہے جس کے نتیجے میں اس میں سوار تین جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں۔

قبل ازیں اسی صوبے میں ایک اور ڈرون حملے میں القاعدہ کا ایک مقامی فوجی انسٹرکٹر مارا گیا تھا۔واضح رہے کہ امریکا ہی یمن میں القاعدہ اور دوسرے جنگجو گروپوں کے خلاف گذشتہ برسوں سے ڈرون حملے کررہا ہے لیکن وہ کم ہی سخت گیر جنگجوؤں کے خلاف اس مہم کا اعتراف کرتا ہے۔امریکا یمن میں جزیرہ نما عرب میں القاعدہ کی شاخ کو دنیا میں سب سے خطرناک جنگجو گروپ خیال کرتا ہے۔

ستمبر2014ء میں حوثی شیعہ باغیوں کے دارالحکومت صنعا پر قبضے کے بعد القاعدہ کے جنگجوؤں نے بھی صورت حال کا فائدہ اٹھایا تھا۔انھوں نے ساحلی شہر المکلا اور بعض دوسرے جنوبی اور جنوب مشرقی شہروں پر قبضہ کر لیا تھا لیکن بعد میں انھیں امریکا کے بغیر پائیلٹ جاسوس طیاروں کے میزائل حملوں اور سعودی اتحاد کے فضائی حملوں میں بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا تھا اور وہ اپنے زیر قبضہ علاقوں سے پسپا ہوگئے تھے۔اس وقت القاعدہ کے جنگجو یمن کے وسطی صوبوں میں تھوڑی بہت تعداد میں موجود ہیں اور ان کی یمنی فورسز سے بھی آئے دن جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں۔