.

ٹرمپ نے نیتنیاہو کے ساتھ بات چیت کو"شان دار" قرار دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

"امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم بینیامین نیتنیاہو کے ساتھ اپنی ٹیلیفونک گفتگو کو "شان دار" قرار دیا ہے۔ اس سے قبل وہائٹ ہاؤس نے اتوار کے روز اعلان کیا تھا کہ اسرائیل میں امریکی سفارت خانے کو بیت المقدس منتقل کرنے کے حوالے سے بات چیت "ابتدائی مراحل" میں ہے۔

وہائٹ ہاؤس کی جانب سے اتوار کی شام جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ امریکی صدر نے اسرائیلی وزیراعظم کو فروری میں وہائٹ ہاؤس میں ملاقات کی دعوت دی۔ ٹیلیفونک رابطے میں ٹرمپ نے نیتنیاہو کو باور کرایا کہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امن کو فریقین کے درمیان براہ راست مذاکرات کے ذریعے ہی یقینی بنایا جا سکتا ہے۔

ٹرمپ اور نیتنیاہو نے علاقائی معاملات مثلا ایران کی شکل میں درپیش خطرات کے حوالے سے مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

امریکا اور اسرائیل کے درمیان یہ میل ملاپ ایسے وقت میں سامنے آ رہا ہے جب ٹرمپ کی جانب سے ان کے سابقہ بیان پر عمل درامد کے حوالے سے اندیشوں میں بڑی حد تک اضافہ ہو گیا ہے جس میں امریکی صدر نے کہا تھا کہ ان کا ملکے سفارت خانے کو بیت المقدس منتقل کرنے کا امکان موجود ہے۔ یہ درحقیقت بالواسطہ طور پر سفارتی صورت میں بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے مترادف ہوگا۔ ساتھ ہی یہ ان بین الاقوامی سفارتی معاہدوں کو بھی سبوتاژ کر دے گا جن میں یہ باور کرایا گیا ہے کہ بیت المقدس کی حتمی پوزیشن صرف اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان مذاکرات کے ذریعے ہی مقرر کی جائے گی۔ فلسطینی مشرقی بیت المقدس کو اپنی ریاست کا دارالحکومت چاہتے ہیں اور مغربی کنارے اور غزہ پٹی کو فلسطینی ریاست میں شامل کرنا چاہتے ہیں۔

جہاں چاہیں جتنی چاہیں تعمیر کر سکتے ہیں : نیتنیاہو

ادھر نیتنیاہو نے اتوار کے روز اپنی کابینہ کے سینئر وزراء کو آگاہ کیا کہ انہوں نے مشرقی بیت المقدس میں یہودی بستیوں کی تعمیر پر عائد پابندیاں ختم کر دی ہیں۔ یہ اقدام شہر کی بلدیہ کونسل کی جانب سے علاقے میں سیکڑوں نئے گھروں کی تعمیر کے پرمٹ کی منظوری دینے کے بعد سامنے آیا ہے۔

یاد رہے کہ ٹرمپ اور نیتنیاہو کی ٹیلیفونک بات چیت سے چند گھنٹے قبل اسرائیلی ذمے داروں نے 1967 میں قبضے میں لی جانے والی فلسطینی اراضی میں یہودی بستیوں کی آباد کاری اور اس سے متعلق نئے منصوبوں کے حوالے سے بیانات جاری کیے تھے۔ بیت المقدس کے میئر نیر برکات کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نئی بستیوں کے حوالے سے مکمل سپورٹ پیش کرے گی۔ مقبوضہ بیت المقدس کی بلدیہ نے شہر کے مشرقی حصے میں تین علاقوں میں 566 رہائشی یونٹوں کی تعمیر کے پرمٹ جاری کیے ہیں۔

عربی روزنامے " الحیات" کے مطابق اسرائیلی حکومتی اتحاد میں شامل دو ارکان پارلیمنٹ نے اتوار کے روز کابینہ کو ایک بل کا مسودہ پیش کیا ہے جس میں بیت المقدس کے نزدیک واقع یہودی بستی "معالیہ ادومیم" کو ضم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ یہ ایک انتہائی متنازع اقدام ہوگا اس لیے کہ اس کے نتیجے میں مغربی کنارہ دو حصوں میں تقسیم ہو کر مقبوضہ بیت المقدس کو علاحدہ کر گے گا۔ اس طرح مستقبل میں رہنے کے قابل ایک فلسطینی ریاست کا قیام پیچیدہ ہو جائے گا۔