.

چین کے جنگی بحری جہازوں کی 6 سال بعد خلیجی ریاستوں میں آمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

چین نے چھے سال کے بعد پہلی مرتبہ خلیجی عرب ریاستوں میں اپنے جنگی بحری جہاز بھیجے ہیں۔مبصرین نے چین کی اس فوجی نقل وحرکت کو اس بات کا اشارہ قرار دیا ہے کہ وہ عالمی امور میں بڑے کردار کا خواہاں ہے۔

چین کے سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کے مطابق تین جنگی بحری جہاز ہفتے کے روز قطر کے دارالحکومت دوحہ میں پہنچے تھے،ان میں ایک گائیڈڈ میزائل جنگی جہاز بھی شامل ہے۔اس سے پہلے ان جہازوں نے سعودی بندرگاہ جدہ کا دورہ کیا تھا۔

چینی بحریہ کے جہاز معمول کے مطابق دنیا کے مختلف ملکوں کی جانب جاتے رہتے ہیں اور اس کے جنگی بحری جہاز بھی یمن اور صومالیہ کے ساحلی علاقوں میں بین الاقوامی پانیوں میں گشت کررہے ہیں اور وہ بحری قزاقوں کے خلاف بین الاقوامی کارروائیوں کا حصہ ہیں۔

تاہم چینی بحری جہاز خلیجی ریاستوں میں کم کم ہی جاتے ہیں کیونکہ وہاں امریکا اور برطانیہ کے بحری اڈے موجود ہیں۔ چینی بحری جہاز قبل ازیں 2010ء میں خلیجی ملکوں میں گئے تھے اور وہ 2014ء میں پہلی مرتبہ ایران کی بحری حدود داخل ہوئے تھے اور وہاں انھوں نے ایران کی بحری افواج کے ساتھ مل کر مشترکہ جنگی مشقیں کی تھیں۔

چین مشرق وسطیٰ کے ممالک سے تیل کا بڑا خریدار ملک ہے لیکن وہ اس خطے کی سفارت کاری میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل چار دوسرے مستقل رکن ممالک امریکا ،برطانیہ ،فرانس اور روس کی طرح دخیل نہیں ہے۔ تاہم اب وہ سفارت کاری کے میدان میں بھی زیادہ فعال کردار ادا کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ خاص طور پر شام میں جاری بحران اور یمنی بحران کے پرامن حل کے ضمن میں اس نے بھی اپنے طور پر کردار ادا کیا ہے۔

چین کے ایک سینیر سفارت کار کا کہنا ہے کہ اگر دوسرے پیچھے ہٹ جاتے ہیں تو چین عالمی قیادت کا کردار نبھانے پر مجبور ہو سکتا ہے۔بالخصوص امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پہلی تقریر میں ''امریکا پہلے'' کا وعدہ کیا ہے۔ایسے میں چین کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی ہے۔