.

یمن: باغیوں کے اسلحہ سپلائی روٹ پر سرکاری فوج کا کنٹرول

حرض اور میدی ساحلی علاقوں میں باغیوں کو شکست

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی قیادت میں یمن میں آئینی حکومت کی بحالی کے لیے جاری آپریشن میں یمن فوج نے سعودی سرحد سے متصل دو اہم علاقوں حرض ڈاریکٹوریٹ اور ساحل سے متصل میدی ڈاریکٹوریٹ سے باغیوں کو نکال باہر کیا ہے۔

‘العربیہ‘ کے نامہ نگار کے مطابق اتوار کے روز یمنی کی سرکاری فوج اور عرب اتحادی فوج کے مشترکہ آپریشن کے دوران باغیوں کو ساحلی علاقوں میدی اور حرض سے نکال دیا گیا ہے اور اب یہ علاقے یمنی فوج کے کنٹرول میں آگئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق باغیوں کو میدی اور حرض میں شکست سے دوچار کرنے کے لیے بہ یک وقت زمینی اور فضائی آپریشن کیا گیا۔ سعودی عرب سے توپخانے کے ذریعے بھی باغیوں کے ٹھکانوں پر شدید گولہ باری کی گئی۔

حکومت کے کنٹرول میں آنے والے دونوں یمنی ساحلی علاقے تزویراتی اعتبار سے بھی کافی اہمیت کے حامل ہیں۔ ساحلی شہر میدی یمن میں حوثی اور علی صالح ملیشیا کو ایرانی اسلحہ کی اسمگلنگ کا اہم راستہ سمجھا جاتا رہا ہے جب کہ حرض کویمنی باغی سعودی عرب پر راکٹ حملوں کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔ ان دونوں علاقوں کے یمنی فوج کے قبضے میں آنے کے بعد باغیوں کو تزویراتی اعتبار سے بھی ہزیمت اٹھانا پڑی ہے۔

میدی اور حرض پر سرکاری فوج کے کنٹرول سے یمنی فوج اور عرب اتحادی فوج کو لاجسٹک سپورٹ فراہم کرنے کا ایک نیا موقع ملا ہے۔ العربیہ کے نامہ نگار کے مطابق حرض کے تمام علاقوں پر اب یمنی فوج کا کنٹرول ہے اور باغیوں کو چالیس کلو میٹر دو دھکیل دیا گیا ہے۔

’العربیہ‘ نیوز چینل کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس کی ٹیم نے حرض اور میدی کے علاقوں کے یمنی فوج کے کنٹرول میں آنے کے بعد علاقے کا دورہ کیا اور باغیوں کی شکست کی کوریج کی ہے۔