.

’آستانہ مذاکرات جنیوا بات چیت کی تکمیل کا ذریعہ ثابت ہوں گے‘

آستانہ مذکرات سے غیرمعمولی توقعات وابستہ ہیں:عبدالرحمانوف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام سے متعلق اہم اجلاس کی میزبانی کرنے والے وسطی ایشیائی ملک قزاقستان کے وزیرخارجہ خیرات عبدالرحمانوف نے ’العربیہ‘ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج تئیس جنوری کو آستانہ میں ہونے والے مذاکرات سے غیرمعمولی توقعات وابستہ ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ شام کے بحران کے حوالے سے بات چیت کا مرکز جنیوا ہے مگر آستانہ مذاکرات جنیوا بات چیت کو تکمیل کی طرف سے لے جانے کا اہم ذریعہ ثابت ہوسکتے ہیں۔

خیال رہے کہ آج 23 جنوری کو قزاقستان کے دارالحکومت آستانہ میں ترکی اور روس کی مساعی سے شام کے بحران کے حل کے لیے اہم اجلاس منعقد ہو رہا ہے۔ اجلاس میں شامی حکومت اور اپوزیشن کے مندوبین شرکت کریں گے۔

قازق وزیرخارجہ نے اسی ضمن میں العربیہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ شام کے بحران کے حل کے لیے بات چیت کا اہم مرکز جنیوا ہی ہے کیونکہ جنیوا میں ماضی میں بھی بات چیت ہوتی رہی ہے۔ جہاں تک آستانہ مذاکرات کا تعلق ہے تو آج کا اجلاس جنیوا مذاکرات کو آگے لے جانے اور تکمیل کے مراحل تک پہنچانے میں مدد گار ہوسکتا ہے۔

خیرات عبدالرحمانوف نے کہا کہ آستانہ مذاکرات جنیوا میں اقوام متحدہ کی زیرنگرانی ہونے والے مذاکرات کی تکمیل کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔

شام میں چھ سال سے جاری خانہ جنگی کے بعد شامی حکومت اور اپوزیشن کے مندوبین ماضی میں بھی مسئلے کے حل کے لیے اقوام متحدہ اور دوسرے ممالک کی موجودگی میں بات چیت کرتے رہے ہیں مگر فریقین کے درمیان کوئی اتفاق رائے طے نہیں پاسکا۔

آستانہ مذاکرات اس اعتبار سے مختلف ہیں کہ یہ ترکی کی زیرنگرانی منعقد کیے جا رہے ہین جب کہ ان مذاکرات کو شامی حکومت، اپوزیشن، ایران، روس اور دمشق کے دیگر حلیف ممالک کی بھی معاونت حاصل ہے۔

آستانہ مذاکرات میں سب سے زیادہ توجہ شام میں جنگ بندی کو مستحکم کرنے پر مرکوز کی جائے گی۔