.

''آستانہ مذاکرات ناکام ہوئے تو مسلح جدوجہد جاری رہے گی''

حزب اختلاف اقتدار میں اپنا حصہ لینے کے لیے مذاکرات میں شریک نہیں ہورہی: محمد علوش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی حزب اختلاف کے مسلح دھڑوں نے واضح کیا ہے کہ اگر قزاقستان کے دارالحکومت آستانہ میں امن مذاکرات ناکام ہوجاتے ہیں تو وہ صدر بشارالاسد کی حکومت کے خلاف مسلح جدوجہد جاری رکھیں گے۔

باغی گروپوں کے ترجمان اسامہ ابو زید نے سوموار کے روز آستانہ میں بات چیت کے آغاز کے موقع پر کہا ہے کہ ''اگر مذاکرات کامیاب رہتے ہیں تو ہم ان کے ساتھ ہیں لیکن اگر یہ بدقسمتی سے ناکامی سے دوچار ہوجاتے ہیں تو پھر ہمارے پاس لڑائی جاری رکھنے کے سوا کوئی چارہ کار نہیں ہے''۔

شامی حزب اختلاف کے وفد کے سربراہ محمد علوش نے کانفرنس میں کہا ہے کہ ''اپوزشین شام کے تمام حصوں میں جنگ بندی کو یقینی بنانا چاہتی ہے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2254 کے تحت جنگ زدہ علاقوں میں انسانی امداد بہم پہنچائی جائے''۔

انھوں نے کہا کہ حزب اختلاف اقتدار میں اپنا حصہ لینے کے لیے مذاکرات میں شریک نہیں ہورہی ہے بلکہ وہ پورے شام میں سلامتی کی بحالی اور قیدیوں کی رہائی کی ضمانت چاہتی ہے۔انھوں نے یہ بات زور دے کر کہی کہ حزب اختلاف شام میں امن وامان کی بحالی کے لیے ہر ممکن اقدام کرنے کو تیار ہے۔

اس موقع پر شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسٹافن ڈی مستورا نے اس امید کا اظہار کیا کہ آستانہ بات چیت سے سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت شامی فریقوں کے درمیان براہ راست مذاکرات کی راہ ہموار ہوگی۔انھوں نے کہا کہ شامی فریقوں کو ملک کے تمام علاقوں میں جنگ بندی پر متفق ہونا چاہیے۔

قزاقستان کے وزیر خارجہ خیرات عبدالرحمانوف نے کہا کہ شامی بحران کا حل مذاکرات اور باہمی افہام وتفہیم کے ذریعے ہی تلاش کیا جاسکتا ہے۔

انھوں نے کہا: '' آج کا اجلاس عالمی برادری کی شامی بحران کے پرامن حل کے لیے خواہش کا عکاس ہے۔قزاقستان اس بات میں یقین رکھتا ہے کہ بحران کے حل کا واحد راستہ باہمی اعتماد اور مفاہمت پر مبنی مذاکرات کے ذریعے ہی تلاش کیا جاسکتا ہے۔

متحارب فریقوں کا اجلاس

قازق دارالحکومت میں روس ،ترکی اور ایران کی حمایت اور کوششوں کے نتیجے میں شامی حکومت اور حزب اختلاف کے نمائندوں کے درمیان یہ مذاکرات ہورہے ہیں۔ گذشتہ سال کے اوائل میں جنیوا میں ان کے درمیان اقوام متحدہ کی ثالثی میں مذاکرات منقطع ہونے کے بعد یہ پہلا براہ راست ٹاکرا ہے۔

آستانہ اجلاس کے منتظمین کا کہنا ہے کہ اس سے کسی نمایاں پیش رفت کی توقع نہ کی جائے۔شامی حکومت کی نمائندگی اقوام متحدہ میں سفیر بشارالجعفری کررہے ہیں اور ان کے علاوہ کوئی اور بڑا عہدہ دار حزب اختلاف سے بات چیت کے لیے نہیں آیا ہے۔

اجلاس میں شریک روس کے مرکزی مذاکرات کار الیگزینڈر لارینتیوف کا کہنا تھا کہ ابھی یہ واضح نہیں کہ آیا شامی حکومت کا وفد اور حزب اختلاف بالمشافہ ملاقات کریں گے یا نہیں یا پھر ان کے درمیان ایک تیسرے فریق کے ذریعے ہی بات چیت ہوگی۔

مزید برآں روس اور ترکی کے درمیان بھی ان مذاکرات کے حوالے سے بنیادی امور پر اختلافات پائے جاتے ہیں۔وہ اس بات پر متفق نظر نہیں آتے ہیں کہ آیا مصالحت کی غرض سے بشارالاسد کو اقتدار سے سبکدوش ہوجانا چاہیے یا نہیں۔

شامی حکومت کے وفد کے سربراہ بشارالجعفری نے اتوار کو آستانہ آتے ہوئے اپنے ساتھ محو سفر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کے ایجنڈے میں جنگ بندی کو مضبوط بنانے پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔انھوں نے مذاکرات میں ترکی کی ایک فریق کے طور پر شرکت کے امکان کو بھی مسترد کردیا اور کہا کہ یہ مذاکرات شامیوں کے درمیان ہورہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا:'' ترکی شام کی خود مختاری کی خلاف ورزی کررہا ہے،اس لیے شامی ،ترک مکالمہ نہیں ہورہا ہے''۔ ان کا اشارہ ترکی کی جانب سے شامی حزب اختلاف کی مدد و حمایت کی طرف تھا۔

واضح رہے کہ آستانہ میں شامی حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان ان مذاکرات میں روس ،ایران اور ترکی مصالحت کار اور معاون کے طور پر شریک ہیں لیکن مغرب کا کوئی نمائندہ شریک نہیں ہے۔روس نے آخری وقت میں گذشتہ ہفتے امریکا کی نئی ٹرمپ انتظامیہ کو ان مذاکرات میں شرکت کی دعوت دی تھی لیکن اس کے کسی نمائندے کی بات چیت میں شرکت کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔

مغربی ممالک نے قبل ازیں اس تشویش کا اظہار کیا ہے کہ آستانہ مذاکرات شام میں گذشتہ چھے سال سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے کوششوں کے ضمن میں ایک مختلف راستہ ہوسکتے ہیں۔ وہ شامی تنازعے کے حل کے لیے اقوام متحدہ کے تحت مذاکرات پر زور دے رہے ہیں۔