.

اقوام متحدہ ایلچی کی صنعا میں ملاقاتوں پر یمنی حکومت معترض

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت نے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسماعیل ولد شیخ احمد کی دارالحکومت صنعا میں حوثی باغیوں کی قیادت اور ان کے اتحادیوں سے ملاقات پر اعتراض کیا ہے۔

یمن کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ عبدالملک المخلافی نے منگل کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ اقوام متحدہ ایلچی کی صنعا میں ملاقاتیں ناقابل قبول ہیں اور یہ عالمی ایلچی ہونے کے ناتے ان کے سفارتی منصب کے بھی منافی ہیں۔

اسماعیل ولد شیخ احمد نے صنعا میں قیام کے دوران میں حوثی باغیوں کے وزیر خارجہ ہشام شرف سے ملاقات کی تھی۔انھوں نے اپنے دورے کے اختتام پر بحران کے جامع سیاسی حل اور جنگی کارروائیاں روکنے کی ضرورت پر زوردیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ''تنازعے کے حل کے لیے تمام فریقوں کے لیے لازم ہے کہ وہ یمنی عوام کے مصائب میں کمی کے لیے تشدد کا سلسلہ ختم کریں اور بحران کا پُرامن مذاکرات کے ذریعے حل تلاش کرنے کی غرض سے راہ ہموار کریں''۔

عالمی ایلچی نے حوثی قیادت کے ساتھ ملاقاتوں میں اس بات پر زوردیا ہے کہ وہ اپنے زیر قبضہ شہروں سے فورسز کے انخلاء اور درمیانے اور بھاری ہتھیار حوالے کرنے کے لیے تفصیلی بات چیت کریں۔

انھوں نے ''انصاراللہ ( حوثی ملیشیا) اور جنرل پیپلز کانگریس ( سابق صدر علی عبداللہ صالح کی جماعت) پر زوردیا کہ وہ ملک میں سکیورٹی ،شہروں سے انخلاء اور درمیانے اور بھاری ہتھیاروں کو حوالے کرنے کے لیے ایک واضح منصوبہ پیش کریں''۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ منصوبہ جامع امن سمجھوتے کا حصہ ہونا چاہیے کیونکہ اقوام متحدہ اسی سمجھوتے پر عمل درآمد کرانا چاہتی ہے۔