.

تیونس کو انتہائی مطلوب اشتہاری جنگجو لیبیا میں ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس کے سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی اداروں کو انتہائی مطلوب شدت پسند ابو عیاض التیونسی گذشتہ روز لیبیا کے مغرب میں قنفودہ کے مقام پر ایک جھڑپ میں ہلاک ہوگیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مقتول شدت پسند تیونس میں انصار الشریعہ نامی کالعدم تنظیم کا سربراہ تھا۔ ماضی میں اس کی گرفتاری اور ہلاکتوں کی متضاد اطلاعات بھی آتی رہی ہیں۔

تیونس وزرات داخلہ کی جانب سے جاری کردہ ایک برقی مراسلے میں ابو عیاض کو انتہائی مطلوب شخص قرار دیا گیا تھا۔ ابو عیاض پر گستاخانہ فلم نشر کیے جانے کے بعد تیونس میں امریکی سفارت خانے پر دیگر شدت پسندوں کے ساتھ مل کر حملہ کرنے کا بھی شبہ ظاہر کیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ تیونسی پولیس نے ابو عیاض کو امریکی سفارت خانے کو آگ لگائے جانے کے واقعے کے بعد حراست میں لیا تھا۔ ابو عیاض کی گرفتاری دارالحکومت کی ایک مسجد میں جمعہ کی تقریر کے دوران عمل میں لائی گئی تھی۔

اس کے بعد ابو عیاض غایب رہا بالخصوص تیونسی اپوزیشن رہ نما شکری بلعید کی 6 فروری 2013ء کو ہلاکت کے بعد ابوعیاض کے بارے میں کسی قسم کی معلومات نہیں تھیں۔

بلعید کے قتل کی ذمہ داری انصار الشریعہ نامی گروپ پرعاید کی گئی تھی۔ جولائی 2013ء کو ایک دوسرے اپوزیشن رہ نما محمد البراہیمی اور کئی فوجی عہدیداروں کے قتل کے واقعات کے بعد انصار الشریعہ کو دہشت گرد تنظیم قرار دے کر اس پر پابندی عاید کردی گئی تھی۔