.

روسی وزیرخارجہ شامی اپوزیشن کے 25 ارکان سے ملاقات کریں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روسی وزیرخارجہ سرگئی لاروف جمعے کو دارالحکومت ماسکو میں شام کی سیاسی حزب اختلاف کے عہدہ داروں سے ملاقات کریں گے لیکن کریملن کا کہنا ہے کہ شام کے مسلح دھڑوں کے نمائندوں کو اس ملاقات میں شرکت کی دعوت نہیں دی گئی ہے۔

روسی وزیر خارجہ نے قزاقستان کے دارالحکومت آستانہ میں شامی حکومت اور حزب اختلاف کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات کے بعد یہ اجلاس طلب کیا ہے۔آستانہ مذاکرات میں کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہوسکی تھی۔

لاروف نے بدھ کے روز پارلیمان کے اجلاس میں بتایا ہے کہ ''ہم نے سیاسی حزب اختلاف کے تمام نمائندوں کو جمعے کو ماسکو آنے کی دعوت دی ہے۔ ہم انھیں آستانہ مذاکرات کے بارے میں آگاہ کریں گے''۔

شام کے ایک آزاد سیاست دان جہاد مقدسی نے روسی وزیر خارجہ کی جانب سے دعوت نامہ ملنے کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ یہ ایک مشاورتی اجلاس ہوگا اور اس میں حزب اختلاف جنیوا میں مذاکرات کے آیندہ دور کو کامیاب بنانے کے لیے اپنا نقطہ نظر پیش کرے گی۔

شام کی''عوامی سفارت کاری'' تحریک کے سیکریٹری محمود الافندی کا کہنا ہے کہ انھیں شامی حزب اختلاف کے پچیس ارکان سمیت روسی دارالحکومت میں آنے کی دعوت دی گئی ہے۔

روسی وزارت خارجہ کی ایک خاتون ترجمان نے یہ وضاحت نہیں کی ہے کہ شامی حزب اختلاف کے کون سے گروپوں کے نمائندوں کو اس اجلاس میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔ واضح رہے کہ شام میں برسرزمین صدر بشارالاسد کی وفادار فوج سے لڑنے والے مسلح گروپ بعض سیاسی دھڑوں کو یہ کہہ کر مسترد کرچکے ہیں کہ وہ حقیقی نہیں ہیں۔

آستانہ مذاکرات میں شرکت کرنے والے ایک باغی مذاکرات کار فارس بیوش نے کہا ہے کہ انھیں ماسکو ملاقات میں شرکت کی دعوت نہیں دی گئی ہے لیکن اگر ایسا کیا جاتا تو وہ وہاں جانے کو تیار تھے۔

انھوں نے آستانہ سے استنبول واپسی پر ایک بیان میں کہا ہے کہ ''دعوت نامہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے بلکہ زیر بحث آنے والا موضوع اہم ہے۔اگر یہ سنجیدہ ہے اور ہم کسی قومی ایشو پر تبادلہ خیال کریں گے تو اس کے لیے ہم دنیا میں کسی بھی جگہ جانے کو تیار ہیں''۔